It was narrated that Hubshi bin Junadah said:
I heard the Messenger of Allah say: ''Ali is part of me and I am part of him, and no one will represent me except 'Ali.'
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا ۱؎۔
سنن الترمذی/المنا قب ۲۱ (۳۷۱۹)، (تحفة الأشراف: ۳۲۹۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۶۴، ۱۶۵)
Wazahat
رسول اللہ ﷺ نے یہ الفاظ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لئے بطور عذر، اور علی رضی اللہ عنہ کی تکریم کے لئے اس وقت فرمائے جب ابوبکر رضی اللہ عنہ امیر حج تھے، اور سورۃ براءت میں مشرکین سے کئے گئے معاہدہ کے توڑنے کے اعلان کی ضرورت پڑی، چونکہ دستور عرب کے مطابق سردار یا سردار کا قریبی رشتہ دار ہی یہ اعلان کر سکتا تھا، لہذا علی رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی، رضی اللہ عنہم۔