Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل۔

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَهَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ يَا عُرْوَةُ كَانَ أَبَوَاكَ مِنْ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ سورة آل عمران آية 172:‏‏‏‏ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ .

It was narrated from Hisham bin 'Urwah that his father said: ''Aishah said to me: 'O 'Urwah, your two fathers were of those who answered (the Call of) Allah and the Messenger (Muhammed) after being wounded, (they were) Abu Bakr and Zubair.''

عروہ کہتے ہیں کہ
مجھ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: عروہ! تمہارے نانا ( ابوبکر ) اور والد ( زبیر ) ان لوگوں میں سے ہیں جن کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح» جن لوگوں نے زخمی ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہا ( سورة آل عمران: 172 ) ، یعنی ابوبکر اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما۔
Hadith Number: 124
Views 0
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Authentic

صحیح

Status Reference

Not Available

Takhreej

«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۶۹۳۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي ۱۶ (۴۰۷۷)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۶ (۲۴۱۸)، مسند احمد (۱/۱۶۴، ۱۶۶)

Wazahat

پوری آیت یوں ہے: «الذين استجابوا لله والرسول من بعد مآ أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم» یعنی: جن لوگوں نے زخمی ہونے کے بعد اللہ اور رسول کا کہنا مانا، جو لوگ ان میں نیک و صالح اور پرہیز گار ہوئے ان کو بڑا ثواب ہے (سورة آل عمران: 172)۔ اس آیت کا شان نزول امام بغوی نے یوں ذکر کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور کفار مکہ جنگ احد سے واپس لوٹے، اور مقام روحا میں پہنچے تو اپنے لوٹنے پر نادم و شرمندہ ہوئے اور ملامت کی، اور کہنے لگے کہ ہم نے محمد کو نہ قتل کیا، نہ ان کی عورتوں کو قید کیا، پھر ان لوگوں نے یہ طے کیا کہ دوبارہ واپس چل کر مسلمانوں کا کام تمام کر دیا جائے، جب یہ خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت اکٹھا کی، اور ابوسفیان اور کفار مکہ کے تعاقب میں روانہ ہونا چاہا، اور اعلان کر دیا کہ ہمارے ساتھ غزوہ احد کے شرکاء کے علاوہ اور کوئی نہ نکلے، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی، نبی کریم ﷺ، ابوبکر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد، سعید، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن الیمان، اور ابوعبیدہ بن جراح وغیرہم کی معیت میں ستر آدمیوں کو لے کر روانہ ہوئے، اور حمراء الأسد (مدینہ سے بارہ میل (۱۹ کلومیٹر) کے فاصلے پر ایک مقام) پر پہنچے، اس کے بعد بغوی رحمہ اللہ نے یہی روایت ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے، غرض وہاں معبد خزاعی نامی ایک آدمی تھا جو نبی کریم ﷺ سے محبت رکھتا تھا، اور وہاں کے بعض لوگ ایمان لا چکے تھے تو معبد نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ ہم کو آپ کے اصحاب کے زخمی ہونے کا بہت رنج ہوا،غرض وہ وہاں سے ابوسفیان کے پاس آیا، اور ان کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی شجاعت کی خبر دی، ابوسفیان اور ان کے ساتھی اس خبر کو سن کر ٹھنڈے ہو گئے، اور مکہ واپس لوٹ گئے، غرض اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کی فضیلت میں یہ آیت نازل فرمائی

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220