It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade two prayers:
prayer after the Fajr until the sun has risen, and prayer after ‘Asr until the sun has set.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نمازوں سے منع فرمایا، ایک فجر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج نکلنے تک، دوسرے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے سورج ڈوب جانے تک ۱؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
صحیح البخاری/المواقیت ۳۰ (۵۸۴)،۳۱ (۵۸۸)، اللباس ۲۰ (۵۸۱۹)، صحیح مسلم/المسافرین ۵۱ (۸۲۵)، سنن النسائی/المواقیت ۳۲ (۵۶۵)،(تحفة الأشراف:۱۲۲۶۵)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن ۱۰ (۴۸)، مسند احمد (۲/۴۶۲،۴۹۶،۵۱۰،۵۲۹)،(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے:۲۱۶۹،۳۵۶۰)
Wazahat
مکروہ اوقات میں سے اس حدیث میں دو وقت، مذکور ہیں اور دوسری حدیث میں دیگر تین اوقات مذکور ہیں، ایک سورج نکلنے کے وقت، دوسرے سورج ڈوبنے کے وقت، تیسرے ٹھیک دوپہر کے وقت، علماء کا اس مسئلہ میں بہت اختلاف ہے، دلائل متعارض ہیں، اور اہل حدیث نے اس کو ترجیح دی ہے کہ ان اوقات میں بلاضرورت اور بلاسبب اور ضرورت سے جیسے طواف کے بعد دو رکعت یا تحیۃ المسجد کی سنت اور واجب کی قضا جیسے وتر یا فجر یا ظہر کے دو رکعت کی قضا ان اوقات میں درست اور صحیح ہے، اسی طرح مکہ مستثنیٰ ہے، وہاں ہر وقت نماز صحیح ہے، اسی طرح جمعہ کی نماز مستثنیٰ ہے اور وہ ٹھیک دوپہر کے وقت بھی صحیح ہے۔