It was narrated that Rabi’ah bin Ghaz asked ‘Aishah about the fasting of the Messenger of Allah (ﷺ). She said:
“He used to fast all of Sha’ban, until he joined it to Ramadan.”
ربیعہ بن الغاز سے روایت ہے کہ
انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے سلسلے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان روزے رکھتے تھے یہاں تک کہ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے ۱؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
(صحیح أبی داود:۲۱۰۱)
Takhreej
سنن الترمذی/الصیام ۴۴ (۷۴۵ مختضراً)، سنن النسائی/الصیام ۱۹ (۲۱۸۸)،(تحفة الأشراف:۱۶۰۸۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم ۵۲ (۹۷۰)، صحیح مسلم/الصیام ۳ (۱۰۸۲)، موطا امام مالک/الصیام ۲۲ (۵۶)، مسند احمد (۶/۸۰،۸۹،۱۰۶)(یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے:۱۷۳۹)
Wazahat
پورے شعبان روزے رکھنے کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ شعبان میں روزے زیادہ رکھتے تھے کیونکہ اس مہینہ میں اعمال رب العالمین کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں،اور آپ کو یہ بات بےحد پسند تھی کہ جب آپ کے اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش ہوں تو آپ روزے کی حالت میں ہوں۔