Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
صحیح البخاری/الزکاة ۴۵ (۱۴۶۳)،۴۶ (۱۴۶۴)، صحیح مسلم/الزکاة ۲ (۹۸۲)، سنن ابی داود/الزکاة ۱۱ (۱۵۹۴،۱۵۹۵)، سنن الترمذی/الزکاة ۸ (۶۲۸)، سنن النسائی/الزکاة ۱۶ (۲۳۶۹)،(تحفة الأشراف:۱۴۱۵۳)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ۲۳ (۳۷)، مسند احمد (۲/۲۴۲،۲۴۹،۲۵۴،۲۷۹،۴۱۰،۴۲۰،۴۳۲،۴۵۴،۴۶۹،۴۷۰)، سنن الدارمی/الزکاة ۱۰ (۱۶۷۲)
Wazahat
یہ حدیث ان لوگوں کی دلیل ہے جو غلام، لونڈی اور گھوڑوں میں زکاۃ کو واجب نہیں کہتے، اور بعضوں نے کہا: اس حدیث میں گھوڑوں سے مراد غازی اور مجاہد کا گھوڑا ہے، جیسے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اور بعض نے کہا: اگر گھوڑے جنگل میں چرتے ہوں اور ان میں نر اور مادہ دونوں ہوں تو ان کے مالک کو اختیار ہے خواہ ہر گھوڑے کے بدلے ایک دینار زکاۃ دے یا جملہ گھوڑوں کی قیمت لگا کر اس کا چالیسواں حصہ دے، ایسا ہی عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، امام ابوحنیفہ کا بھی یہی قول ہے، لیکن صاحبین اور جمہور علماء اور ائمہ اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ گھوڑے، غلام اور لونڈی میں مطلقاً زکاۃ نہیں ہے اور یہی صحیح ہے۔