Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

عورتوں کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ .

It was narrated from 'Aishah: that whenever the Messenger of Allah was to travel, he would cast lots among his wives.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔
Hadith Number: 1970
Views 0
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Authentic

صحیح

Status Reference

Not Available

Takhreej

تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۶۶۷۸)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الھبة ۱۵ (۲۵۹۳)، النکاح ۹۷ (۵۰۹۲)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۱۳ (۲۴۴۵)، سنن ابی داود/النکاح ۳۹ (۲۱۳۸)، مسند احمد (۶/۱۱۷،۱۵۱،۱۹۷،۲۶۹)، سنن الدارمی/الجہاد ۳۱ (۲۴۶۷)

Wazahat

جس عورت کا نام قرعہ میں نکلتا اس کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے، باقی عورتوں کو مدینہ میں چھوڑ جاتے اور یہ آپ ﷺ کا کمال انصاف تھا، ورنہ علماء نے کہا ہے کہ آپ ﷺ پر بیویوں کے درمیان تقسیم ایام واجب نہ تھی، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دے دیا تھا کہ جس عورت کے پاس چاہیں رہیں: «تُرْجِي مَن تَشَاء مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاء» (سورة الأحزاب: 51) ان میں سے جسے چاہیں دور رکھیں اور جسے چاہے اپنے پاس رکھ لیں ۔

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220