It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
The oath is only according to the intention of the one who requests the oath to be taken.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم کا اعتبار صرف قسم دلانے والے کی نیت پر ہے ۱؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
صحیح مسلم/الأیمان ۴ (۱۶۵۳)، سنن ابی داود/الأیمان ۷ (۳۲۵۵)، سنن الترمذی/الأحکام ۱ (۱۳۵۴)،(تحفة الأشراف:۱۲۸۲۶)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/النذور ۱۱ (۲۳۹۴)
Wazahat
گو قسم کھانے والا دوسرا کچھ مطلب رکھ کر قسم کھائے یعنی توریہ کرے تو اس کا توریہ اس کو مفید نہ ہو گا بلکہ جھوٹی قسم کا وبال اس پر ہو گا، اس حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کوئی شخص قسم کھا کر دوسرے کا حق دبانا چاہے اور اگلی حدیث کا محل یہ ہے کہ جب کسی مسلمان کی ظالم کے ظلم سے جان یا عزت بچانی مقصود ہو، اور دونوں قسموں میں منافات نہ ہو گی۔ امام احمد رحمہ اللہ کا قول اس حدیث کے موافق ہے۔