Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

جو قرض یا بےسہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي يُونُسُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ الدَّيْنُ فَيَسْأَلُ:‏‏‏‏ هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ؟ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ قَالُوا:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏صَلَّى عَلَيْهِ. وَإِنْ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفُتُوحَ قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ .

It was narrated from Abu Hurairah that: if a believer died at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) and he had debts, the Messenger of Allah (ﷺ) would ask: “Did he leave anything with which to off his debt?” If they said yes, then he would offer the funeral prayer for him, but if they said no, then he would say: “Pray for your companion.” When Allah granted his Prophet (ﷺ) the conquests, he said: “I am nearer to the believers than their own selves. Whoever dies owing a debt, I will pay it off for him, and whoever leaves behind wealth, it will be for his heirs.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
جب کوئی مومن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں وفات پا جاتا، اور اس کے ذمہ قرض ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھتے: کیا اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے اس نے کچھ چھوڑا ہے ؟ تو اگر لوگ کہتے: جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتوحات عطا کیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مومنوں سے ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں، تو جو کوئی وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو اس کی ادائیگی میرے ذمے ہے، اور جو کوئی مال چھوڑے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۱؎۔
Hadith Number: 2415
Views 0
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Authentic

صحیح

Status Reference

Not Available

Takhreej

صحیح مسلم/الفرائض ۴ (۱۶۱۹)، سنن النسائی/الجنائز ۶۷ (۱۹۶۵)،(تحفة الأشراف:۱۵۳۱۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الکفالة ۵ (۲۲۹۸)، النفقات ۱۵ (۵۳۷۱)، سنن الترمذی/الجنائز ۶۹ (۱۰۷۰)، حم (۲/۲۹۰،۴۵۳)، سنن الدارمی/البیوع ۵۴ (۲۶۳۶)

Wazahat

اسلام کے ابتدائی عہد میں جب مال و دولت کی کمی تھی تو جب کوئی مقروض مرتا نبی کریم ﷺ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو فرماتے وہ پڑھ لیتے، پھر جب اللہ تعالی نے فتوحات دیں، اور مال غنیمت ہاتھ آیا تو آپ نے حکم دیا کہ اب جو کوئی مسلمان مقروض مرے اس کا قرضہ میں ادا کروں گا، اسی طرح بے سہارا بال بچے چھوڑ جائے تو ان کی پرورش کا ذمہ بھی میر ے سر ہے۔

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220