Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

ڈاکہ ڈالنے، رہزنی کرنے اور ملک میں فساد پھیلانے والوں کی حدود کا بیان

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَة، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَطَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ .

It was narrated from 'Aishah that : some people raided the she-camels of the Messenger of Allah (ﷺ) , so the Prophet(ﷺ) cut off their hands and feet (on opposite sides) and lanced (gouged out) their eyes.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۱؎۔
Hadith Number: 2579
Views 2
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Authentic

صحیح

Status Reference

Not Available

Takhreej

«سنن النسائی/المحاریة (تحریم الدم)۷ (۴۰۴۳)،(تحفة الأشراف:۱۷۰۳۲)

Wazahat

دوسری روایت میں ہے کہ پیاس کے مارے تڑپتے رہے لیکن کسی نے ان کو پانی نہیں دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے، یہ آنکھیں پھوڑنا اور پانی نہ دینا تشدد کے لئے نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ انہوں نے کئی کبیرہ گناہ کئے تھے، ارتداد، قتل، لوٹ پاٹ، ناشکری وغیرہ۔ بعضوں نے کہا کہ یہ قصاص میں تھا کیونکہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے چرواہے کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا، غرض بدکار، بدفعل، بے رحم اور ظالم پر ہرگز رحم نہ کرنا چاہئے، اور اس کو ہمیشہ سخت سزا دینی چاہئے تاکہ عام لوگ تکلیف سے محفوظ رہیں، اور یہ عام لوگوں پر عین رحم و کرم ہے کہ ظالم کو سخت سزا دی جائے، اور ظالم پر رحم کرنا غریب رعایا پر ظلم ہے۔

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220