Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

حد کا نفاذ گناہ کا کفارہ ہے

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَصَابَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا فَعُوقِبَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ .

It was narrated from Ali that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever commits a sin in this world and is punished for it, Allah (STW) is too just to repeat the punishment for his slave (in the hereafter). And whoever commits a sin in this world and Allah conceals him, Allah is too generous to go back to something that He has pardoned.”

علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا، اور اسے اس کی سزا مل گئی، تو اللہ تعالیٰ اس بات سے زیادہ انصاف پسند ہے کہ بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جو دنیا میں کوئی گناہ کرے، اور اللہ تعالیٰ اس کے گناہ پر پردہ ڈال دے، تو اللہ تعالیٰ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کر چکا ہے ۔
Hadith Number: 2604
Views 0
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Doubtful

ضعیف

Status Reference

(سند میں حجاج بن محمد مصیصی ہیں، جو بغداد آنے کے بعد اختلاط کا شکار ہو گئے، اور ہارون بن عبد اللہ الحمال ان کے شاگرد بغدادی ہیں، اس لئے ان کی روایت حجاج سے اختلاط کی وجہ سے ضعیف ہے)

Takhreej

«سنن الترمذی/الإیمان ۱۱ (۲۶۲۶)،(تحفة الأشراف:۱۰۳۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۹۹،۱۵۹)

Wazahat

گذشتہ صحیح حدیثوں سے پتلا چلا کہ حدود کے نفاذ سے گناہ کا کفارہ ہو جاتا ہے، محققین علماء کا یہی قول ہے، لیکن بعض علماء نے کہا کہ حد سے گناہ معاف نہیں ہوتا بلکہ گناہ کی معافی کے لئے توبہ درکار ہے اور اس کی کئی دلیلیں ہیں: ایک یہ کہ ڈکیتی میں اللہ تعالی نے فرمایا: «ذلك لهم خزي في الدنيا ولهم في الآخرة عذاب عظيم» (سورة المائدة: 33) یعنی حد دنیا کی رسوائی ہے، اور آخرت میں ان کو دردناک عذاب ہے ، دوسرے یہ کہ ایک روایت میں ہے: میں نہیں جانتا حدود کفارہ ہیں یا نہیں، تیسرے یہ کہ ابوامیہ مخزومی کی حدیث میں گزرا کہ آپ ﷺ نے جب چور کا ہاتھ کاٹا گیا تو اس سے کہا: اللہ سے استغفار کر اور توبہ کر ۔

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220