It was narrated from Mu'awiyah bin Qurrah that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to a man who had married his father's wife after he died, to strike his neck (execute him) and confiscate his wealth.”
قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایسے شخص کے پاس بھیجا جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر لی تھی، تاکہ میں اس کی گردن اڑا دوں اور اس کا سارا مال لے لوں ۱؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
(سند میں خالد بن أبی کریمہ صدوق ہیں، لیکن حدیث کی روایت میں خطا اور ارسال کرتے ہیں، لیکن حدیث براء بن عازب رضی اللہ عنہما کے شاہد کی وجہ سے صحیح ہے)
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۰۸۲، ومصباح الزجاجة:۹۲۲)
Wazahat
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی شریعت میں مالی تعزیر درست ہے، اوپر سرقہ کے باب میں گزر چکا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس سے دوگنی قیمت لی جائے گی ، اور بعضوں نے کہا کہ یہ شخص مرتد ہو گیا تھا تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دیا، اس لئے کہ حد زنا میں مال ضبط نہیں ہوتا۔