It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said:
”A believer should not be killed in retaliation for the murder of a disbeliever, and a person who has a treaty should not be killed during the time of the treaty.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ۱؎، اور نہ وہ ( کافر ) جس کی حفاظت کا ذمہ لیا گیا ہو ۲؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
(سند میں حنش حسین بن قیس ابو علی الرحبی ضعیف ہیں، لیکن حدیث شواہد کی وجہ سے صحیح ہے)
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۰۳۰، ومصباح الزجاجة:۹۳۷)(وستأتي بقیتہ برقم:۲۶۸۳)
Wazahat
یہاں کافر سے مراد حربی کافر ہے، اور اہل علم کا اجماع ہے کہ مسلمان کافر حربی کے بدلے نہ مارا جائے گا۔ ۲؎: جس غیر مسلم کی حفاظت کا عہد کیا جائے اس کا قتل بھی ناجائز ہے، اس لیے کہ دین اسلام میں عہدشکنی کسی حال میں جائز نہیں ہے۔