It was narrated from Qatadah that he said that he heard Juray bin Kulaib narrate that he heard ‘Ali narrate that the Messenger of Allah (ﷺ) forbade sacrificing animals with broken horns and ears.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے اور کن کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
(جری بن کلیب کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء:۱۱۴۹)
Takhreej
«سنن ابی داود/الأضاحي ۶ (۲۸۰۵)، سنن الترمذی/الأضاحي ۹ (۱۵۰۴)، سنن النسائی/الضحایا ۱۱ (۴۳۸۲)،(تحفة الأشراف:۱۰۰۳۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۸۳،۱۰۱،۱۰۹،۱۲۷،۱۲۹،۱۵۰)
Wazahat
لیکن منڈا یعنی جس جانور کی سینگ اگی نہ ہو اس کی قربانی جائز ہے، اسی طرح اگر کان آدھا سے کم کٹا ہو تو امام ابوحنیفہ نے اس کو جائز کہا ہے، لیکن حدیث مطلق ہے، اور حدیث کی اتباع بہتر ہے، اور احمد، ابوداود، حاکم اور بخاری نے تاریخ میں تخریج کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا«مصفرہ» (جس کا کان کاٹا گیا ہو) سے اور «مستاصلہ» (جس کی سینگ ٹوٹی ہو) سے اور «بخقاء» سے (جس کی آنکھ میں نقش ہو) اور «مشعیہ» سے (جو اور بکریوں کے ساتھ چل نہ سکے کمزوری اور لاغری سے) اور «کسیرہ» سے (جس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو)۔