It was narrated that Ibn ‘Abbas said:
“On the Day of Khaibar, the Messenger of Allah (ﷺ) forbade eating any predatory animal that has fangs and any bird that has talons.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن ہر کچلی ( نوک دار دانت ) والے درندے اور پنجہ والے پرندے کے کھانے سے منع فرما دیا ۱؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
«سنن ابی داود/الأطعمة ۳۳ (۳۸۰۵)، سنن النسائی/الصید ۳۳ (۴۳۵۳)،(تحفة الأشراف:۵۶۳۹)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید ۳ (۱۹۳۴)، مسند احمد (۱/۲۴۴)، سنن الدارمی/الأضاحی ۱۸ (۲۰۲۵)
Wazahat
پنجہ والے پرندے سے مراد وہ پرندے ہیں جو پنجہ سے شکار کرتے ہیں، جیسے باز بحری، شکرہ، عقاب، چیل، گدھ وغیرہ، اور الو بھی پنجہ سے شکار کرتا ہے پس وہ اس قاعدے کے موافق حرام ہو گا، لیکن افسوس ہے کہ بعض فقہا حنفیہ کو اس کی خبر نہیں ہوئی، اور انہوں نے اپنی کتابوں میں الو کو حلال لکھا ہے، چنانچہ فتاویٰ عالم گیری میں ہے کہ الو کھایا جائے گا، روضہ ندیہ میں ہے کہ کبوتر بھی پنجہ رکھتا ہے لیکن وہ حلال ہے، اسی طرح چڑیا کیونکہ وہ پاک اور نفیس ہیں۔