Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

سمندر کے پانی سے وضو کا بیان

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ هُوَ مِنْ آلِ ابْنِ الْأَزْرَقِ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّار، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ، ‏‏‏‏‏‏وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا، ‏‏‏‏‏‏أَفَنَتَوَضَّأُ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ .

It was narrated that Mughirah bin Abu Burdah, who was from the tribe of Banu 'Abdud-Dar, said that: He heard Abu Hurairah say: A man came to the Messenger of Allah and said: O Messenger of Allah, we travel by sea and carry a small amount of water with us. If we use it for ablution, we will become thirsty. Can we perform ablution with seawater?' The Messenger of Allah said: 'Its water is a means of purification, ad its dead meat is permissible. (i.e. the fish found dead in the sea).'

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندری سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا سا پانی رکھتے ہیں، اگر ہم اس پانی سے وضو کریں تو پیاسے رہ جائیں، کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کر لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا پانی بذات خود پاک ہے، اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے، اس کا مردار حلال ہے ۱؎۔
Hadith Number: 386
Views 0
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Authentic

صحیح

Status Reference

Not Available

Takhreej

«سنن ابی داود/الطہارة ۴۱ (۸۳)، سنن الترمذی/الطہارة ۵۲ (۶۹)، سنن النسائی/الطہارة ۴۷ (۵۹)، (تحفة الأشراف: ۱۴۶۱۸)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ۳ (۱۲)، مسند احمد (۲/۲۳۷، ۳۶، ۳۷۸)، سنن الدارمی/الطہارة ۵۳ (۷۵۵)

Wazahat

سمندر کا مردار حلال ہے : اس سے مراد حلال جانور ہیں جو کسی صدمہ سے مر گئے اور سمندر نے ان کو ساحل پر ڈال دیا، اسی کو آیت «أحل لكم صيد البحر وطعامه» (سورة المائدة: 96) میں «طَعام» سے تعبیر کیا گیا ہے، یاد رہے سمندری جانور وہ ہے جو خشکی پر زندہ نہ رہ سکے جیسے مچھلی، تو مچھلی تمام اقسام کی حلال ہیں، رہے دیگر جانور اگر مضر اور خبیث ہیں یا ان کے بارے میں نص شرعی وارد ہے تو حرام ہیں، اگر کسی جانور کا نص شرعی سے رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کا کھانا مروی ہے، اور وہ ان کے زمانے میں موجود تھا، تو اس کے بارے میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220