It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
“I would not like to have (the equivalent of) Uhud in gold, then a third night comes to me and I have anything of it left, except something that I set aside to pay off a debt.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں چاہتا کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن آئے تو میرے پاس اس میں سے کچھ باقی رہے، سوائے اس کے جو میں قرض ادا کرنے کے لیے رکھ چھوڑوں ۱؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۳۴۳، ومصباح الزجاجة:۱۴۶۶)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الاستقراض ۳ (۲۳۸۹)، صحیح مسلم/الزکاة ۸ (۹۹۱)، مسند احمد (۲/۴۱۹،۴۵۴،۵۰۶)
Wazahat
باقی سب فقراء اور مساکین میں تقسیم کر دوں، مال کا جوڑ رکھنا آپ ﷺ کو نہایت ناپسند تھا چنانچہ دوسری روایت میں ہے کہ ایک دن آپ ﷺ عصر پڑھتے ہی لوگوں کی گردنوں پر سے پھاندتے ہوئے اپنی کسی بیوی کے پاس تشریف لے گئے، جب آپ سے اس کا سبب پوچھا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: کچھ مال میرے پاس بھول کر رہ گیا تھا، وہ یاد آیا تو میں نے اس کے تقسیم کر دینے کے لیے اس قدر جلدی کی، نبی اکرم ﷺ کی نبوت پر سخاوت بھی عمدہ دلیل ہے کیونکہ غیر نبی میں ایسے سارے عمدہ اخلاق ہرگز جمع نہیں ہو سکتے