Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
صحیح مسلم/المساجد ۱ (۵۲۳)، سنن الترمذی/السیر ۵ (۱۵۵۳)، (تحفة الأشراف: ۱۴۰۳۷، ۱۳۹۷۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۴۱۱)
Wazahat
یعنی ساری زمین پر نماز کی ادائیگی صحیح ہے، اور پاک کرنے والی کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک قسم کی زمین پر تیمم صحیح ہے، اور نبی اکرم ﷺ سے دیوار پر تیمم کرنا ثابت ہے، لیکن شافعی اور احمد اور ابوداؤد کے یہاں زمین سے مٹی مراد ہے، اور مالک، ابوحنیفہ، عطاء، اوزاعی اور ثوری کا قول ہے کہ تیمم زمین پر اور زمین کی ہر چیز پر درست ہے،مگر امام مسلم کی ایک روایت میں «تربت» کا لفظ ہے، اور ابن خزیمہ کی روایت میں «تراب» کا، اور امام احمد اور بیہقی نے باسناد حسن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے: «و جعل التراب لي طهوراً» یعنی مٹی میرے لئے پاک کرنے والی کی گئی، اس سے ان لوگوں کی تائید ہوئی ہے، جو تیمم کو مٹی سے خاص کرتے ہیں، اور زمین کے باقی اجزاء سے تیمم کو جائز نہیں کہتے، اور قرآن میں جو «صعید» کا لفظ ہے اس سے بھی بعضوں نے مٹی مراد لی ہے، اور لغت والوں کا اس میں اختلاف ہے، بعضوں نے کہا: «صعید» روئے زمین کو کہتے ہیں، پس وہ زمین کے سارے اجزاء کو عام ہو گا، ایسی حالت میں احتیاط یہ ہے کہ تیمم پاک مٹی ہی سے کیا جائے، تاکہ سب لوگوں کے نزدیک درست ہو، «واللہ اعلم»۔