It was narrated that Ibn ‘Abbas said:
“For the Subh prayer on Fridays, the Messenger of Allah (ﷺ) used to recite ‘Alif-Lam-Mim. The revelation...’ [32:1] and ‘Has there not been over man...’” [76:1]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم تنزيل السجدة» ( سورۃ سجدۃ ) ، اور «هل أتى على الإنسان» ( سورۃ الدہر ) پڑھتے تھے ۱؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
صحیح مسلم/الجمعة ۱۰ (۸۷۹)، سنن ابی داود/الصلاة ۲۱۸ (۱۰۷۴، ۱۰۷۵)، سنن الترمذی/الصلاة ۲۵۸ (۵۲۰)، سنن النسائی/الافتتاح ۴۷ (۹۵۷)، الجمعة ۳۸ (۱۴۲۲)، (تحفة الأشراف: ۵۶۱۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۲۶، ۳۰۷، ۳۲۸، ۳۳۴)
Wazahat
اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ جمعہ کو نماز فجر میں ان دونوں سورتوں کا پڑھنا مستحب ہے «كان يقرأ» کے صیغے سے اس پر نبی اکرم ﷺ کی مواظبت کا پتہ چلتا ہے، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں جس کی تخریج طبرانی نے کی ہے، اس پر آپ کی مداومت کی تصریح آئی ہے، اس میں شاید یہ حکمت ہو گی کہ ان دونوں سورتوں میں انسان کی پیدائش، خاتمہ، آدم، جنت اور جہنم کا ذکر ہے، اور قیامت کا حال ہے، اور یہ سب باتیں جمعہ کے دن ہونے والی ہیں، اور کچھ ہو چکی ہیں۔