It was narrated that ‘Aishah said:
“When the Messenger of Allah (ﷺ) bowed, he neither raised his head nor lowered it, rather (he did something) between that.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع کرتے تو نہ اپنا سر اونچا رکھتے، اور نہ نیچا رکھتے بلکہ ان دونوں کے بیچ سیدھا رکھتے ۱؎۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۶۰۴۰، ومصباح الزجاجة: ۳۲۰)، وقد أخرجہ: (مطولاً) صحیح مسلم/الصلاة ۴۶ (۴۹۸)، سنن ابی داود/الصلاة ۱۲۴ (۷۸۳)، مسند احمد (۶/۳۱، ۱۱۰، ۱۷۱، ۱۹۴، ۲۸۱)
Wazahat
اس طرح کہ پیٹھ اور گردن برابر رکھتے، اور اسی طرح سے بالاجماع رکوع کرنا سنت ہے، اور اہل حدیث کے نزدیک یہ تعدیل ارکان میں داخل ہے، اور نماز میں تعدیل ارکان فرض ہے، یہی قول ائمہ ثلاثہ اور ابویوسف کا بھی ہے، لیکن ابوحنیفہ اور محمد رحمہما اللہ نے اس کو واجب کہا ہے، اہل حدیث کا بھی یہی مذہب ہے، نماز کے آداب و شروط اور سنن کے ساتھ دو رکعت پڑھنا اس سے بہتر ہے کہ بہت ساری نماز پڑھی جائیں جن میں سنت کا اہتمام نہ کیا جائے، اللہ تعالیٰ سب مسلمانوں کو نیک عمل کی توفیق دے۔