Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا» . رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

عطاء بن یسار ؒ بنو اسد قبیلے کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم میں سے جو شخص اوقیہ یا اس کے مساوی چاندی کی ملکیت رکھنے کے باوجود سوال کرتا ہے تو وہ چمٹ کر سوال کرنے والوں کے زمرے میں آتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔
Hadith Number: 1849
Views 1
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Authentic

صحیح

Status Reference

(صَحِيح)

Takhreej

اسنادہ صحیح ، رواہ مالک (۲ / ۹۹۹ ح ۱۹۴۹) و ابوداؤد (۱۶۲۷) و النسائی (۵ / ۹۸ ۔ ۹۹ ح ۲۵۹۷) ۔

Wazahat

Not Available

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220