Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

سوال کرنا کس کے لیے جائز ہے اور کس کے لیے ناجائز

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ إِلَّا لِذِي فَقْرٍ مُدْقِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِيُثْرِيَ بِهِ مَالَهُ: كَانَ خُمُوشًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَرَضْفًا يَأْكُلُهُ مِنْ جَهَنَّمَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُلْ وَمَنْ شَاءَ فليكثر . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

حبشی بن جنادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مال دار شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے نہ کام کرنے کی طاقت رکھنے والے صحیح الخلقت شخص کے لیے ، البتہ اس شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے جو انتہائی محتاج ہو یا تاوان تلے دب گیا ہو ، اور جو شخص اپنا مال بڑھانے کی خاطر لوگوں سے سوال کرتا ہے تو روز قیامت اس کے چہرے پر خراش ہو گی ، اور وہ جہنم میں گرم پتھر کھائے گا ، جو چاہے کم کرے جو چاہے زیادہ کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ۔
Hadith Number: 1850
Views 1
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Doubtful

ضعیف

Status Reference

(ضَعِيف)

Takhreej

اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۶۵۳) * مجالد بن سعید : ضعیف من جھۃ سوء حفظہ ۔

Wazahat

Not Available

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220