Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

کہانت کا بیان

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

وَعَن قتادةَ قَالَ: خلقَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِه النجومَ لثلاثٍ جَعَلَهَا زِينَةً لِلسَّمَاءِ وَرُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ وَعَلَامَاتٍ يُهْتَدَى بهَا فَمن تأوَّلَ فِيهَا بِغَيْرِ ذَلِكَ أَخَطَأَ وَأَضَاعَ نَصِيبَهُ وَتَكَلَّفَ مَالا يَعْلَمُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيقًا وَفِي رِوَايَةِ رَزِينٍ: «تكلّف مَالا يعنيه ومالا عِلْمَ لَهُ بِهِ وَمَا عَجَزَ عَنْ عِلْمِهِ الْأَنْبِيَاء وَالْمَلَائِكَة»

قتادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے یہ ستارے تین مقاصد کے لیے پیدا فرمائے ہیں ، انہیں آسمان کے لیے باعث زینت بنایا ، شیاطین کے لیے مار اور علامت و نشانات جن کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے ۔ جس نے ان کے علاوہ کچھ اور بیان کیا اس نے غلطی کی ، اپنا حصہ (عمر) ضائع کیا اور ایسی چیز کا تکلف کیا جو وہ نہیں جانتا ۔ امام بخاری ؒ نے اسے معلق روایت کیا ہے ۔ اور رزین کی روایت میں ہے ، اور اس نے ایسی چیز کا تکلف کیا جو نہ تو اس کے متعلق ہے اور نہ اسے اس کا علم ہے اور جس کے علم سے انبیا ؑ اور فرشتے بھی عاجز ہیں ۔ رواہ البخاری و رزین ۔
Hadith Number: 4602
Views 0
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Authentic

صحیح

Status Reference

((صَحِيح))

Takhreej

رواہ البخاری (کتاب بدء الخلق باب ۳ ، بعد ح ۳۱۹۸) و رزین (لم اجدہ) [و رواہ ابن حجر فی یغلیق التعلیق (۳ / ۴۸۹) و سندہ صحیح] * وقولہ ’’ مالا علم لہ بہ ‘‘ صحیح ۔

Wazahat

Not Available

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220