۔ (دوسری سند) سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ کے بعد اپنے بھائی معبد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے بھائی کو لے کر آپ کے پاس آیا ہوں، تاکہ آپ اس سے ہجرت پر بیعت لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہجرت والے تو ہجرت کا ثواب لے کر آگے نکل گئے ہیں، ایک روایت میں ہے: ہجرت اپنے اہل کے ساتھ سبقت لے جا چکی ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس چیز پر اس کی بیعت لیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام، ایمان اور جہاد پر۔ یحییٰ بن اسحاق راوی کہتا ہے: میں بعد میں سیدنا معبد رضی اللہ عنہ کوملا ، جبکہ وہ سیدنا مجاشع رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا اور اس سے یہی سوال کیا، انھوں نے کہا: مجاشع نے سچ کہا ہے۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
(۱۰۶۳۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Wazahat
فوائد:… امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مہاجرین کے لیے امتیازی صفت کا سبب بننے والی وہ ہجرت ہے، جو فتح مکہ سے پہلے تھی۔
وہ ہجرت، تعریف اور فضیلت والی ہجرت تھی۔