سیدنا ابوہریرہ ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی انگوروں کو کَرْم نہ کہا کرے، بیشک کرم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
فوائد: … کرم کے معانی: کریم، سخی، سخاوت، فیاضی، کشادہ دلی، مہربانی، عالی ظرفی، عمدہ اور زرخیز زمین، عفوودرگذر۔انگور کو اس بنا پر کرم کہتے ہیں، کہ اس سے بنائی ہوئی شراب سخاوت اور فیاضی پر ابھارتی ہے، اس لیے انگور کا نام ہی کرم یعنی سخاوت رکھ دیا گیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناپسند کیا کہ اعلی معنویت والا یہ لفظ انگور کے لیے استعمال کیا جائے، اس کا حقدار تو مؤمن ہے۔ زمخشری نے کہا: دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے خوبصورت اور لطیف طریقے کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} کے معنی کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، حقیقت میں انگور کو کرم کہنے سے منع نہیں کیا جا رہا، بلکہ اس بات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ متقی مسلمان اس لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا جو نام رکھا ہے، کوئی اور اس میں شرکت نہ کرے۔