۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے ظلم کو اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر حرام قرار دیا ہے، خبردار! پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا، ساری اولادِ آدم دن رات غلطیاں کر تی ہے، پھر جب مجھ سے بخشش طلب کرتی ہے تو میں بخش دیتا ہوں اور کوئی پروا نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: اے بنو آدم! تم سارے گمراہ تھے، مگر جس کو میں نے ہدایت دی، تم سارے ننگے تھے، مگر جس کو میں نے لباس دیا، تم سارے بھوکے تھے، مگر جس کو میں نے کھانا کھلایا، تم سارے پیاسے تھے، مگر جس کو میں نے پانی پلایا، پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تم کو ہدایت دوں گا، تم مجھ سے لباس طلب کرو، میں تم کو لباس دوں گا، تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تم کو کھلاؤں گا اور مجھ سے پانی طلب کرو، میں تم کو پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے اورپچھلے… سابقہ حدیث کی طرح ذکر کیا اور اس میں ہے تو وہ میری بادشاہت میں کوئی کمی نہ کر سکیں گے، مگر اتنی جیسے سوئی کا نکہ سمندر میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
(۱۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۷۷(انظر: ۲۱۴۲۰)
Wazahat
فوائد: …مراد یہ ہے کہ جیسے سوئی کے نکے میں پھنسنے والے پانی سے سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں آتی، اس طرح ساری مخلوقات کے مطالبات پورے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے لامتناہی خزانوں میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔