سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے۔
فوائد: …فقہ سے مراد دین کے علوم کا فہم ہے اور اِن علوم کا سرچشمہ قرآن اور حدیث ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو خیر و بھلائی عطا کرنا چاہتا ہو، وہ اس کو شرعی علم عطا کر دیتا ہے اور یہی وہ علم ہے ، جس کی وجہ سے دل میں خشیت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس کا اثرات اعضاء و جوارح پر نظر آنے لگتے ہیں۔ اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ احادیث ِ مبارکہ میں فقہ سے مراد اصطلاحی اور عرفی فقہ نہیں ہوتی، پھر فقہ کی جو مروّجہ صورت لوگوں کے سامنے ہے اور جس پر بعض لوگوں کو بڑا ناز بھی ہے، اس صورت نے تو لوگوں کو قرآن و حدیث اور اس کے فہم سے دور کر دیا ہے۔ ان احادیث میں قرآن و حدیث کا علم رکھنے والوں کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صبر کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھیں اور حرص و طمع اور تہمت گاہوں سے اپنے دامن کو محفوظ رکھیں، انجام خیر ایسے لوگوں کا منتظر ہے۔