۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری والدہ حج کئے بغیر فوت ہو گئی ہے، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس عورت نے مزید پوچھا: میری والدہ کے ذمہ ایک ماہ کے روزے بھی تھے ،تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھ سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
(۴۰۷۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۴۹(انظر: ۲۲۹۵۶)
Wazahat
فوائد: …حج کے سلسلے میں ان احادیث سے درج ذیل مسائل ثابت ہوئے: & جو شخص صاحب ِ مال ہو، لیکن بڑھاپے یا بیماری (جس سے بظاہر شفا کی امید نہ ہو) کی وجہ سے حج اور حج کے لوازمات ادا نہ کر سکتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے کسی آدمی کو حج کی ادائیگی کے لیے بھیجے۔
& حج کا معاملہ قرض والا ہے، جو آدمی استطاعت کے باوجود اس فریضے کی ادائیگی سے محروم رہتا ہے، وہ اللہ تعالی کا مقروض ہے۔
& میت کی طرف سے حج ادا کیا جا سکتا ہے۔
& اس سلسلے میں مرد و زن ایک دوسرے کی طرف سے نیابت کر سکتے ہیں۔
& حج بدل کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس نے پہلے خود حج ادا کیا ہوا ہو، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔ (میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ((مَنْ شُبْرُمَۃُ؟)) … ’’شبرمہ کون ہے؟‘‘ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، یا کہا کہ میرا رشتہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ((حَجَجْتَ عَنْ نَّفْسِکَ؟)) … ’’کیا تو نے خود حج ادا کیا ہوا ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حُجَّ عَنْ نَفْسِکَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔)) … ’’تو پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔‘‘ (ابوداود، ابن ماجہ)