Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

۔ (۴۰۷۸) عَنْ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ امْرَأَۃً أَتَتِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَتْ: أِنَّ أُمِّی قَدْ مَاتَتْ وَلَمْ یَحُجَّ فَیُجْزِئُھَا أَنْ أَحُجَّ عَنْھَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّی کَانَ عَلَیْہَا صَوْمُ شَہْرٍ فَیُجْزِئُہَا أَنْ أَصُوْمَ عَنْہَا؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۳۳۴۴)

۔ سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری والدہ حج کئے بغیر فوت ہو گئی ہے، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس عورت نے مزید پوچھا: میری والدہ کے ذمہ ایک ماہ کے روزے بھی تھے ،تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھ سکتی ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔
Hadith Number: 4078
Views 1
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Authentic

صحیح

Status Reference

Not Available

Takhreej

(۴۰۷۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۱۴۹(انظر: ۲۲۹۵۶)

Wazahat

فوائد: …حج کے سلسلے میں ان احادیث سے درج ذیل مسائل ثابت ہوئے: & جو شخص صاحب ِ مال ہو، لیکن بڑھاپے یا بیماری (جس سے بظاہر شفا کی امید نہ ہو) کی وجہ سے حج اور حج کے لوازمات ادا نہ کر سکتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے کسی آدمی کو حج کی ادائیگی کے لیے بھیجے۔ & حج کا معاملہ قرض والا ہے، جو آدمی استطاعت کے باوجود اس فریضے کی ادائیگی سے محروم رہتا ہے، وہ اللہ تعالی کا مقروض ہے۔ & میت کی طرف سے حج ادا کیا جا سکتا ہے۔ & اس سلسلے میں مرد و زن ایک دوسرے کی طرف سے نیابت کر سکتے ہیں۔ & حج بدل کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس نے پہلے خود حج ادا کیا ہوا ہو، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔ (میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: ((مَنْ شُبْرُمَۃُ؟)) … ’’شبرمہ کون ہے؟‘‘ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، یا کہا کہ میرا رشتہ دار ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: ((حَجَجْتَ عَنْ نَّفْسِکَ؟)) … ’’کیا تو نے خود حج ادا کیا ہوا ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((حُجَّ عَنْ نَفْسِکَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔)) … ’’تو پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔‘‘ (ابوداود، ابن ماجہ)

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220