۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خندق کھودنے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلہاڑا پکڑا اور اس سے کھدائی شروع کی، اچانک سامنے پتھر آ گیا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان لوگوں کی وجہ سے ہنسا ہوں، جن کو بیڑیاں ڈال کر مشرق سے لایا جا رہا ہے اور ان کو جنت کی طرف چلایا جا رہا ہے۔