۔ (دوسری سند) سیدہ خولہ بن حکیم سُلَمِیّہؓ، جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک خالہ تھیں، نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا، جسے احتلام ہو جائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ غسل کرے گی۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
Not Available
Takhreej
(۸۵۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Wazahat
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مرد اور عورت دونوں کو احتلام ہو سکتا ہے اور اس کی وجہ سے جنابت والا غسل واجب ہو جاتاہے۔ احتلام کے لیے خواب کا آنا یا نہ آنا معتبر نہیں ہے، بلکہ کپڑے یا جسم پر تری یا داغ کا ہونا معتبر ہے، جب کسی کو نیند کے بعد اپنے جسم یا کپڑے پر احتلام کے اثرات نظر آ جائیں گے تو وہ غسلِ جنابت کرے گا، خواب کا آنا اس کے ذہن میں ہو یا نہ ہو۔ اسی طرح اگر کسی کو اس قسم کا خواب تو آتا ہے، لیکن جسم یا کپڑے پر کوئی نشان دکھائی نہیں دیتا تو غسل فرض نہیں ہو گا۔