سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسلِ جنابت کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ بائیں کندھے پر کچھ جگہ خشک رہ گئی ہے، اس تک پانی نہیں پہنچا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو پکڑا اور اس جگہ کو تر کر دیا، پھر نماز کے لیے روانہ ہو گئے۔
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Doubtful
ضعیف
Status Reference
Not Available
Takhreej
(۸۹۷) تخریج: اسنادہ ضعیف جدا، علی بن عاصم ضعیف، وابوعلی الرحبی الواسطی متروک۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۶۶۳ (انظر: ۲۱۸۰)
Wazahat
فوائد:… حدیث نمبر (۶۹۵)کی شرح میں وضو میں موالاۃ کے حکم پر بحث کی گئی ہے، وہی حکم غسل جنابت کا ہے، جب تک جسم گیلا ہو تو صرف خشک رہ جانے والی جگہ کو دھویا جا سکتا ہے، اگر کوئی جگہ خشک رہ جائے اور سارا جسم بھی خشک ہو جائے تو دوبارہ غسل کرنا پڑے گا۔