Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.
Reference
Status
Authentic
صحیح
Status Reference
صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 549
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/الصلاة ۸ (۴۲۴) مطولاً، سنن الترمذی/الصلاة ۵ (۱۵۴) مطولاً، سنن ابن ماجہ/الصلاة ۲ (۶۷۲) مطولاً، (تحفة الأشراف: ۳۵۸۲)، مسند احمد ۳/۴۶۵، ۴/ ۱۴۰، ۱۴۲، سنن الدارمی/الصلاة ۲۱ (۱۲۵۳، ۱۲۵۴، ۱۲۵۵) (حسن صحیح)
Wazahat
وضاحت: ۱؎: یعنی اس قدر تاخیر کرو کہ طلوع فجر میں شبہ باقی نہ رہے، یا یہ حکم ان چاندنی راتوں میں ہے جن میں طلوع فجر واضح نہیں ہوتا، شاہ ولی اللہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ یہ خطاب ان لوگوں کو ہے جنہیں جماعت میں کم لوگوں کی حاضری کا خدشہ ہو، یا ایسی بڑی مساجد کے لوگوں کو ہے جس میں کمزور اور بچے سبھی جمع ہوتے ہوں، یا اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ فجر خوب لمبی پڑھو تاکہ ختم ہوتے ہوتے خوب اجالا ہو جائے جیسا کہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھ کر لوٹتے تو آدمی اپنے ہم نشیں کو پہچان لیتا، اس طرح اس میں اور غلس والی روایت میں کوئی منافات نہیں ہے۔