Islamic Sayings Islamic Sayings
Blog
Books

ایام فتن، علامات قیامت اور دوبارہ زندہ کیےجانے کا بیان

Tip: Tap to favorite, enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.
Login to save favorites

) عَنْ عَبْدِاللهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَسَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَجْلِسًا لَهُ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَاضِعًا كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! حَدِّثْنِي مَا الْإِسْلَامُ؟ (قلت: فذكر الحديث بطوله، وفيه) قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! فَحَدِّثْنِي مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : سُبْحَانَ اللهِ! فِي خَمْسٍ مِنَ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا هُوَ: اِنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ (لقمان: ٣٤) وَلَكِنْ إِنْ شِئْتَ حَدَّثْتُكَ بِمَعَالِمَ لَهَا دُونَ ذَلِكَ قَالَ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللهِ! فَحَدِّثْنِي قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا رَأَيْتَ الْأَمَةَ وَلَدَتْ رَبَّتَهَا أَوْ رَبَّهَا وَرَأَيْتَ أَصْحَابَ الشَّاءِ يتطَاوَلُون بِالْبُنْيَانِ وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْجِيَاعَ الْعَالَةَ كَانُوا رُءُوسَ النَّاسِ فَذَلِكَ مِنْ مَعَالِمِ السَّاعَةِ وَأَشْرَاطِهَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَمَنْ أَصْحَابُ الشَّاءِ وَالْحُفَاةُ الْجِيَاعُ الْعَالَةُ؟ قَالَ: الْعَرَبُ. ( )

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک مجلس میں بیٹھے تھے، جبریل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور اپنے ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول!مجھے بتائیے اسلام کیا ہے؟ (لمبی حدیث ذکر کی اس میں ہے کہ) جبریل علیہ السلام نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے جو غیب سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا: (لقمان: ٣٤) اللہ ہی کو غیب کا علم ہے۔ لیکن اگر تم چاہو تو میں قیامت سے پہلے قیامت کی نشانیاں تمہیں بتا سکتا ہوں۔ جبریل uنے کہا: اے اللہ کے رسول! ٹھیک ہے ،مجھے بتائیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم دیکھو کہ لونڈی مالکن یا مالک کو جنم دے رہی ہے، اور تم دیکھو کہ بکریوں والے گھر بنا کر ایک دوسرے پر فخر کر رہے ہیں اور ننگے پاؤں، بھوکے،فقیرلوگوں کو دیکھو کہ وہ لوگوں کے سربراہ بن جائیں تو یہ قیامت کی نشانیاں ہیں۔ جبریل uنے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بکریوں والے، محتاج فقیر اور بھوکے اور ننگے پاؤں کون لوگ ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عرب لوگ۔
Hadith Number: 2513
Views 0
Report Issue
Facebook Twitter / X WhatsApp
Create Image Ask Question
Timeline share: your reflection and this Quran/Hadees reference will appear on your timeline.

Reference

Status

Authentic

صحیح

Status Reference

Not Available

Takhreej

الصحيحة رقم (1345) مسند أحمد رقم (2775) .

Wazahat

Not Available

266x220

266x220

266x220

266x220

545x220

545x220