طحو اور دحو دونوں ہم معنی ہیں اور ان کے معنی کچی چیز کو پھیلانے اور لے جانے کے ہیں۔ قرآن پاک میں ہے: (وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا طَحٰہَا ) (۹۱:۶) اور قسم زمین اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ شاعر نے کہا ہے۔(1) (الطّویل) (۲۹۰) طَحَابِکَ قَلْبٌ فِی الْحِسَانِ طَرُوْبٌ تجھے حسن پرست دل کہاں سے کہاں لے گیا۔
| Words | Surah_No | Verse_No |
| طَحٰىهَا | سورة الشمس(91) | 6 |