سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گدھے پر سوار تھا، اور اس گدھے پر ایک کمبل چادر تھی (جو جانور کے پالان کے نیچے رکھی جاتی ہے) یہ غروب آفتاب کا وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ابوذر ! کیا تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ دلدل والے ایک چشمہ میں غروب ہوتا ہے، پھر یہ چلتے چلتے اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہوتا ہے، جب اس کے طلوع کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے طلوع ہونے کی اجازت دیتا ہے اور یہ جا کر طلوع ہوجاتا ہے، لیکن جب اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ یہ مغرب ہی کی طرف سے طلوع ہو تو اللہ تعالیٰ اسے روک لے گا، سورج کہے گا: اے رب! میرا سفر بہت طویل ہے، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جو جہاں غروب ہوا ہے، وہیں سے طلوع ہو جا، یہ ایسا وقت ہوگا کہ اس وقت ایمان لانا کسی کے لیے مفید نہیں ہوگا۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج غروب ہونے والے اپنے مقام سے طلوع ہوگا اورچاشت کے وقت ایک جانور ظاہر ہوگا، ان میں سے جو علامت بھی پہلے ظاہر ہو گئی تو دوسری اس کے بعد جلد نمایاں ہوجائے گی۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا خیال ہے کہ سورج کا مغرب کی طرف سے طلوع ہونا پہلے ہو گا، یہی پہلی علامت ہو گی۔
ابوذرعہ بن عمرو کہتے ہیں: مدینہ منورہ میں تین مسلمان مروان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مروان کو سنا وہ علاماتِ قیامت بیان کر رہا تھا، اس نے کہا کہ قیامت کی پہلی علامت دجال کا خروج ہے۔ پھر یہ لوگ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور مروان سے سنی ہوئی علامات ِ قیامت کا ذکر ان سے کیا، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مروان نے کوئی علمی بات نہیں کہی، ا س بارے میں مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث یاد ہے، جو مجھے ابھی تک بھولی نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلی علامتیں جو ظاہر ہوں گی، وہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا اور چاشت کے وقت چوپائے کا نکلنا ہے، ان میں سے جو علامت پہلے ظاہر ہوگی، دوسری اس کے بعد جلد ہی ظاہر ہوجائے گی۔ چونکہ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ آسمانی کتابیں پڑھتے رہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ سب سے پہلی علامت سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ہی ہو گا، اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج جب غروب ہوتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے عرش کے نیچے جا کر سجدہ کرتاہے، پھر واپس جانے کی اجازت طلب کرتا ہے اور اسے واپس جانے کی اجازت مل جاتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوگا کہ یہ مغرب کی طرف سے طلوع ہو، تو یہ معمول کے مطابق سارے امور سرانجام دے گا، عرش کے نیچے جا کر سجدہ ریز ہونے کے بعد حسب سابق واپس جانے کی اجازت طلب کرے گا، لیکن اللہ تعالیٰ اسے کوئی جواب نہیں دے گا، یہ دوبارہ اجازت مانگے گا، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، وہ تیسری مرتبہ اجازت مانگے گا ، پھر بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، یہاں تک کہ رات کا کچھ حصہ گزر جائے گا اور سورج کو یقین ہوجائے گا کہ اب اگر اسے واپسی کی اجازت مل بھی جائے تو وہ اپنے مقرر وقت پر مشرق تک نہیںپہنچ سکے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب ! مشرق کس قدر بعید ہے! اب میرا اور لوگوں کا معاملہ، اس کا کیا بنے گا؟ یہاں تک کہ افق جب ایک گول حلقہ کی طرح ہوجائے گا تو وہ پھر ایک دفعہ واپسی کی اجازت طلب کرے گا، اب کی بار اسے کہا جائے گا: آج تم یہیں سے طلوع ہوجاؤ، چنانچہ وہ لوگوں پر مغرب کی طرف سے طلوع ہو جائے گا۔ اس کے بعد سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ کَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا۔} (سورۂ انعام: ۱۵۸) (جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اسے فائدہ نہیں دے گا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہیں کیا ہو گا۔)
سیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مغرب کی سمت میں توبہ کے لیے ستر سال کی مسافت پر مشتمل ایک بڑا دروازہ کھلا ہوا ہے، وہ دروازہ سورج کے مغرب کی طرف سے طلوع ہونے تک بند نہیں کیا جائے گا۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مغرب کی جہت میں توبہ کے لیے ایک دروازہ بنایا ہے، اس کی مسافت ستر سال ہے، وہ اس وقت تک بند نہیں کیا جائے گا، جب تک مغرب کی طرف سے سورج طلوع نہیں ہوجاتا، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا یہی مفہوم ہے: {یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لَایَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا} (جس دن تمہارے رب کی بعض نشانیاں آجائیں گی، تو اس وقت کسی ایسے شخص کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا، جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا ہو گا۔) (الانعام: ۱۵۸)۔
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان پیدا کیے تھے، اسی دن توبہ کے لیے یہ دروازہ کھولا تھا، اب وہ اس کو اس وقت تک بند نہیں کرے گا، جب تک سورج اس کی طرف سے یعنی مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا۔
Haidth Number: 13037
Tip: Tap to favorite,
enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.