اَ لصَّا عِقَہُ اور صَا قِعَۃُ دو نو ں کے تقریبا ً ایک ہی معنی ہیں یعنی ہو لنا ک دھما کہ لیکن صَقَعٌ کا لفظ اجسا م ارضی کے متعلق استعما ل ہو تا ہے اور صَعْقٌ اجسا م ارضی کے متعلق استعما ل ہو تا ہے اور صَعْقٌ اجسا م علو ی کے با رے میں بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ صَاعِقَۃٌ تین قسم پر ہے ۔ اول بمعنی مو ت اور ہلا کت جیسے فر ما یا : (فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ) (۳۹۔ ۶۸)تو جو لو گ آ سما ن میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب کے سب مر جا ئیں گے ۔ (فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ ) (۵۱۔ ۴۴)سو تم کو مو ت نے آپکڑا ۔ (دوم ) بمعنی عذاب جیسے فر ما یا : (اَنۡذَرۡتُکُمۡ صٰعِقَۃً مِّثۡلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ) (۴۱۔۱۳) میں تم کو مہلک عذاب سے آگا ہ کر تا ہو ں جیسے عا داور ثمو د پر وہ (عذاب ) آیا تھا ۔ (سو م ) بمعنی آگ (اور بجلی کی کڑک ) جیسے فر ما یا : (وَ یُرۡسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیۡبُ بِہَا مَنۡ یَّشَآءُ ) (۱۳۔۱۳) اور وہی بجلیا ں بھیجتا ہے پھر جس پر چا ہتا ہے گرا بھی دیتا ہے ۔ لیکن یہ تینو ں چیزیں دراصل صَا عِقَہ کے آثا ر سے ہیں کیو نکہ اس کے اصل معنی تو فضا میں سخت آواز کے ہیں ۔ پھر کبھی تو اس آواز سے صرف آگ ہی پیدا ہو تی ہے اور کبھی وہ آوا ز عذاب اور کبھی مو ت کا سبب بن جا تی ہے یعنی دراصل وہ ایک ہی چیز ہے اور یہ سب چیزیں اس کے آثار سے ہیں ۔
| Words | Surah_No | Verse_No |
| الصَّوَاعِقَ | سورة الرعد(13) | 13 |
| الصَّوَاعِقِ | سورة البقرة(2) | 19 |
| الصّٰعِقَةُ | سورة البقرة(2) | 55 |
| الصّٰعِقَةُ | سورة النساء(4) | 153 |
| الصّٰعِقَةُ | سورة الذاريات(51) | 44 |
| صَعِقًا | سورة الأعراف(7) | 143 |
| صٰعِقَةً | سورة حم السجدہ(41) | 13 |
| صٰعِقَةُ | سورة حم السجدہ(41) | 17 |
| صٰعِقَةِ | سورة حم السجدہ(41) | 13 |
| فَصَعِقَ | سورة الزمر(39) | 68 |
| يُصْعَقُوْنَ | سورة الطور(52) | 45 |