۔ (دوسری سند)وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھتے اور رات کو نماز پڑھتے تھے، جب کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں سوئی ہوتی تھے، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کے کپڑے مجھے لگ جاتے تھے، جبکہ میں حائضہ ہوتی تھی۔
ایک صحابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی، اس کے بعد فوراً ایک آدمی اٹھ کر نماز پڑھنے لگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھ کر کہا: بیٹھ جا، اہل کتاب صرف اس وجہ سے ہلاک ہو گئے کہ ان کی نماز میںفاصلہ نہیں ہوتا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب نے اچھا کیا ہے۔
عبد الرحمن بن ابی ذباب کہتے ہیں کہ سیّدناعثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، جب لوگوں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا تو انھوں نے کہا: لوگوں میں نے مکہ آتے ہی شادی کر لی تھی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو کسی شہر میں شادی کرلے تو وہ وہاں مقیم والی نماز پڑھے۔
سیّدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو اکیلا نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر فرمایا: کیاکوئی ایسا آدمی نہیں ہے جو اس پر صدقہ کرے اور اس کے ساتھ نماز پڑھے ۔پس ایک آدمی اٹھا اور اس کے ساتھ نماز پڑھی، پھر
سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس رات ان ہی کے پاس تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تاکہ آپ کی نماز کے ساتھ نماز پڑھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر کے بالوں کو یا میرے سرکو پکڑا اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کردیا۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو رات کو کھڑا ہوتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتاہے اور وہ بھی نماز پڑھتی ہے۔ اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتی ہے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارتا ہے۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم کرے جو رات کو اٹھتی ہے اور نماز پڑھتی ہے اور اپنے خاوند کو بھی جگاتی ہے اور وہ بھی نماز پڑھتا ہے، اگر وہ اٹھنے سے انکار کرتا ہے تو وہ اس کے منہ پر چھینٹے مارتی ہے ۔
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ایک (تجارتی) قافلہ آیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، پس لوگ (مسجد سے) نکل کھڑے ہوئے اور بارہ آدمی باقی رہ گئے، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: ،اور جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آ جائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں۔
سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور مرد اسے کندھوں پر اٹھا لیتے ہے، اگر وہ میت نیک ہو تو کہتی ہے: مجھے آگے لے چلو اور اگر وہ نیک نہ ہو تو کہتی ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے کر جا رہے ہو۔ انسان کے علاوہ ہر مخلوق اس کی آواز کو سنتی ہے اور اگر انسان اسے سن لے تو وہ بے ہوش ہو جائے۔
عطاء کہتے ہیں:ہم سرف کے مقام پر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں شریک تھے، انھوں نے کہا: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب تم ان کی میت کو اٹھائو تو اسے شدت اور سختی کے ساتھ حرکت نہ دو۔
سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنازہ کو لے کر جانے کی کیفیت کے بارے میں سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے لے کر تیزی سے چلا جائے، لیکن دوڑا نہ جائے، اگر وہ میت نیک ہوا تو وہ بھلائی کی طرف جلدی پہنچے گا اور اگر نیک نہ ہوا تو آگ والوں کے لیے ہلاکت ہے، جنازے کے پیچھے پیچھے چلا جائے، اس کو پیچھے نہ لگایا جائے، جو جنازے کے آگے چلے گا وہ ہم میں سے نہیں ہو گا۔
عبدالرحمن بن مہران کہتے ہیں:جب سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا: مجھ پر کوئی خیمہ نصب نہ کرنا اور میرے جنازے کے ساتھ دھونی دان لے کر نہ جانا اور میرے بارے میں جلدی کرنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب نیک آدمی کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے جلد لے چلو، مجھے جلد لے چلو، لیکن جب گنہگار بندے کو چارپائی پر رکھا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: ہائے! تم مجھے کدھر لے جا رہے ہو۔
ابن المسیب کہتے ہیں کہ سیّدنا ابوہریرہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا، راوی کہتا ہے: میرا خیال ہے کہ انھوں نے مرفوعا ہی بیان کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے جنازوںکے سلسلے میں جلدی کیا کرو، اگر وہ نیک ہوں تو تم انہیں خیر کی طرف جلد لے جاؤ گے اور اگر وہ برے ہوں گے تو تم (جلدی) راحت پا لو گے اور ان کو اپنے کندھوں سے اتار دو گے۔
عیینہ کے والد عبدالرحمن بن جوشن کہتے ہیں:میں عبدالرحمن بن سمرہ کے جنازہ کے ساتھ نکلا اور دیکھا کہ ان کے گھرانے کے بعض لوگ اس جنازے آگے آگے الٹے پائوں چلتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں: (لوگو!) اللہ تم میں برکت کرے، آرام سے چلو۔اسی اثنا میں سیّدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ مربد والے راستے سے ہمیں آ ملے، جب ان لوگوں کو یہ کام کرتے دیکھا تو خچر ان پر چڑھا دیا اور اپنی لاٹھی ان پر لہرائی اور کہا:ہٹ جائو۔ اس ذات کی قسم جس نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو عزت بخشی! میں نے اس سلسلہ میں لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دیکھا، قریب ہوتا تھا کہ ہم دوڑ ہی پڑیں۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی جنازہ کے ساتھ جاتے تو فرماتے: اسے لے کر جلدی جلدی چلو اور یہودیوں کی طرح جنازہ لے کر آہستہ آہستہ نہ چلو۔
سیّدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ کو لے کر بڑی تیزی کے ساتھ گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم پر سکینت ہونی چاہیے۔
(دوسری سند) سیّدناابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، مشکیزے کی طرح ہل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میانہ روی اختیار کرو۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مال دار کے لئے زکوۃ لینا حلال نہیں ہے، مگر تین افراد کے لیے: جہاد کرنے والا، مسافر اور وہ (غنی) آدمی کہ اس کے پڑوسی کو زکوۃ دی گئی اور اس نے اپنے پڑوسی کو کوئی تحفہ دے دیا۔ــ
۔ سیدہ ام معقل اسدیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں:میرے شوہر نے ایک جوان اونٹ اللہ کی راہ کے لئے وقف کر دیا، جبکہ میں عمرہ کے لئے جانا چاہتی تھی، اس لیے میں نے اپنے شوہر سے وہ اونٹ طلب کیا، لیکن اس نے دینے سے انکار کر دیا۔ جب میں نے اس بات کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرےشوہر کو حکم دیا کہ وہ اونٹ مجھے دے دے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حج اور عمرہ بھی اللہ کی راہ میں ہی ہے۔ نیز فرمایا: رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غنی لوگوں کے لیے زکوۃ حلال نہیں ہے، مگر ان پانچ افراد کے لیے: عاملِ زکوۃ، زکوۃ کے مال کو اپنے مال کے عوض خریدنے والا، چٹی بھرنے والا (یعنی کسی کی طرف سے ادائیگی کا ذمہ لینے والا) ، اللہ کی راہ میںجہاد کرنے والا اور وہ غنی آدمی کہ زکوۃ لینے والا مسکین جس کو کوئی تحفہ دے دے۔
۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تو روزہ افطار کر دیا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،ایک نوجوان نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھا آدمی آیااور اس نے بھییہی سوال کیا کہ وہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ جواب سن کر ہم نے (ازراہِ تعجب) ایک دوسرے کی طرف دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تم نے ایک دوسرے کی طرف کیوں دیکھا ہے،بات یہ ہے کہ بوڑھا آدمی اپنے اوپر کنٹرول کر سکتا ہے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر عذری رضی اللہ عنہ ، جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ پھیرا تھا اور انہوں نے بہت سے صحابہ کو پایا تھا، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:صحابہ کرام اس اندیشہ کی بناء پر مجھے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے سے منع کیا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے اگلی چیز کی طرف تجاوز کر جاؤں اور آج کے مسلمان (تابعین) بھی اس سے (مطلق طور پر) منع کرتے ہیں اور (بطورِ دلیل) یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حفاظت حاصل تھی، وہ کسی دوسرے کے لیے تو نہیںہے۔
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ کے روزے رکھے، اس نے حقیقت میں کوئی روزہ نہیں رکھا۔
۔ سیدہ اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لوگوں کو پلانے کے لیے پیش کیا، ان میں ایک آدمی روزے دار تھا، جب وہ مشروب اس کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: پیو۔ لیکن کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو روزہ ترک ہی نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس نے کوئی روزہ نہیں رکھا۔
۔ سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس کو ترک کیا۔
۔ (دوسری سند) ان کے باپ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اسے ترک کیا۔
۔ سیدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس کے اوپر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ہتھیلی کو بند کر کے کیفیت بیان کی۔
۔ سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی کسی دن کے روزے کا ناغہ نہیں کرتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے افطار کیا اور نہ اس نے روزہ رکھا ہے۔
۔ صدقہ دمشقی کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور روزوں کے بارے میں سوال کیا۔انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کہ : سب سے زیادہ فضیلت والے روزے میرے بھائی دائود علیہ السلام کے ہیں، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داود علیہ السلام کے روزے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہیں اور اسی طرح ان کی رات کی نماز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے، وہ نصف رات سونے کے بعد ایک تہائی رات قیام کرتے اور پھر رات کا چھٹا حصہ سو جاتے، رہا مسئلہ روزوں کا تو وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن ناغہ کرتے تھے۔
Haidth Number: 3974
Tip: Tap to favorite,
enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.