سیدنا ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ جب مشرک لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ اے محمد! ہمارے لیے اپنے ربّ کا نسب بیان کرو، تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی: آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے۔ نہ اس سے کوئی پیدا ہوا نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ کوئی اس کا ہم سر ہے۔ (سورۂ اخلاص) اَلصَّمَد کا پورا معنی یہ ہے: اَلْمَصْمُوْدُ اِلَیْہِ فِیْ الْحَوَائِجِ، اَلْغَنِیُّ عَنْ کُلِّ اَحَدٍ۔ (وہ ہے کہ حاجتوں میں جس کا قصد کیا جائے، جبکہ وہ ہر ایک سے غنی اور لاپروا ہو)۔
سیدنا ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے بعض بندے مجھے جھٹلا دیتے ہیں، حالانکہ یہ ان کو زیب نہیں دیتا، اسی طرح بعض مجھے گالیاں دیتے ہیں اور یہ بھی ان کے شایانِ شان بات نہیں ہے۔ مجھ (اللہ) کو جھٹلانے کی صورت یہ ہے کہ بندہ کہتا ہے: جس طرح اللہ نے ہمیں پہلی دفعہ پیدا کیا، وہ اس طرح ہمیں دوبارہ پیدا نہیں کرے گا اور مجھے گالی دینے کی صورت یہ ہے کہ بندے کہتا ہے: اللہ تعالیٰ کی بھی اولاد ہے، حالانکہ میں تو ایسا بے نیاز ہوں کہ میں نے نہ کسی کو جنا اور نہ میں جنا گیا اور کوئی بھی میری برابری کرنے والا نہیں ہے۔
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: آدم کا بیٹا مجھے تکلیف دیتا ہے اور وہ اس طرح کہ وہ زمانے کو برابھلا کہتا ہے اور زمانہ میں ہوں، میرے ہاتھ میں اختیار ہے، میں شب و روز کو الٹ پلٹ کرتا ہوں۔
سیدنا ابوہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: کس نے آسمان کو پیدا کیا؟ وہ کہتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ وہ پھر سوال کرتا ہے: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ وہ جواب دیتا ہے: اللہ تعالیٰ نے۔ اتنے میں وہ یہ سوال کر دیتا ہے: اچھا تو اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ پس جب تم میں سے کوئی اس سوال کو محسوس کرے تو وہ کہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَ بِرُسُلِہٖ (میں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا ہوں)۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے دل میں جو وسوسہ محسوس کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہم ایسی ایسی چیزیں محسوس کر جاتے ہیں کہ ان کو زبان سے بیان کرنے کی بہ نسبت ہمیں آسمان سے گرنا آسان لگتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو خالص ایمان ہے۔
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرنے سے ہی منع کر دیا گیا تھا، اس لیے ہمیں یہ بات پسند تھی کہ کوئی سمجھدار دیہاتی آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوالات کرے اور ہم سنیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے محمد! آپ کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے بتلایا کہ آپ کا یہ خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: تو پھر آپ بتلائیے کہ آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: زمین کو کس نے پیدا کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: ان پہاڑوں کو کس نے پیدا کر کے ان میں بہت کچھ رکھ دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے۔ اس نے کہا: تو پھر اس ذات کی قسم جس نے آسمان کو پیدا کیا، زمین کو پیدا کیا اور ان پہاڑوں کو گاڑھا! کیا واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بات بھی کی تھی کہ ایک دن رات میں ہم پر پانچ نمازیں فرض ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے مالوں میں زکوۃ فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا قاصد یہ بھی کہتا تھا کہ ہم پر ایک سال میں رمضان کے روزے بھی فرض ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، اس نے سچ کہا ہے۔ اس نے کہا: پس اس ذات کی قسم جس نے آپ کو بھیجا ہے! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان روزوں کا حکم دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے پھر کہا: آپ کے قاصد نے یہ بھی کہا تھا کہ جو آدمی طاقت رکھتا ہو، اس پر بیت اللہ کا حج کرنا بھی فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے۔ یہ سارا کچھ سن کر وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چل دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے! میں ان (عبادات) میں نہ زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ سچ کہہ رہا ہے تو ضرور ضرور جنت میں داخل ہو گا۔
اسی (انسؓ) سے روایت میں ایک اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زیادہ ہیں: میں آپ کی لائی ہوئی چیزوں پر ایمان لایا ہوں اور میں اپنی قوم کے پیچھے رہ جانے والے افراد کا قاصد ہوں، بنو سعد بن بکر سے تعلق رکھنے والا ضمام بن ثعلبہ ہوں۔
سیدنا طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک بدّو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا ور کہا: اے اللہ کے رسول! اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دن رات میں پانچ نمازیں۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی نماز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر اس نے روزوں کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے روزے۔ اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ پھر زکوۃ کا ذکر ہوا اور اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی زکوۃ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں۔ بالآخر اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان عبادات میں نہ کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہو گیا ہے۔
سیدنا تمیم داریؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اہل کِتَابُ یا اہل کفر میں سے کوئی آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے تو اس کے بارے میں کیا سنت ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ مستحق ہو گا۔
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فتح مکہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری کے نیچے کھڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑی خوبصورت اور حسین باتیں ارشاد فرمائیں تھیں، ایک بات یہ بھی تھی: اہل کِتَابُ میں سے جو آدمی مسلمان ہو گا، اس کے دو اجر ہوں گے اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔ اور جو آدمی مشرکوں میں سے مسلمان ہو گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور پھر جو حق ہمارا ہے، وہ اس کا بھی ہو گا اور جو ذمہ داری ہم پر ہے، وہ اس پر بھی ہو گی۔
سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنی لونڈی کو تعلیم دے اور اچھی تعلیم دے اور اس کی اخلاقی تربیت کرے اور اچھی تربیت کرے اور پھر اس کو آزاد کر کے اس سے شادی کرے تو اس کو دو اجر ملیں گے، (اسی طرح اس کے لیے دو اجر ہیں) جو غلام اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقا کا بھی اور اہل کتاب کا وہ آدمی جو پہلے حضرت عیسی ؑکی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا اور پھر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت پر ایمان لایا، اس کے لیے بھی دو اجر ہیں۔
قیس بن کثیرکہتے ہیں: ایک آدمی مدینہ منورہ سے سیدنا ابو درداءؓ کے پاس آیا، جو کہ دمشق میں تھے، انھوں نے اس سے پوچھا: میرے بھائی! کون سی چیز تجھے لے آئی ہے؟ اس نے کہا: ایک حدیث کی خاطر آیا ہوں، مجھے پتہ چلا ہے کہ تم اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے ہو، انھوں نے کہا: کیا تو تجارت کے لیے تو نہیں آیا؟ اس نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: تو کسی اور ضرورت کے لیے تو نہیں آیا؟ اس نے کہا: جی نہیں، انھوں نے کہا: تو صرف اس حدیث کے حصول کے لیے آیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: پس بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جو آدمی حصول علم کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستے پر چلا دیتا ہے، اور بیشک فرشتے طالب علم کی خوشنودی کیلئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور زمین و آسمان کی ساری مخلوق عالم کے لیے بخشش کی دعا کرتی ہے، حتی کہ پانی کے اندر مچھلیاں بھی، اور عالم کی عبادت گزار پر اتنی فضیلت ہے، جیسے چاند کی بقیہ ستاروں پر ہے، بیشک اہل علم ہی انبیائے کرام کے وارث ہیں، انھوں نے ورثے میں دینار لیے نہ درہم، بلکہ انھوں نے تو صرف علم وصول کیا ہے، جس نے یہ علم حاصل کیا، اس نے (انبیائے کرام کی میراث سے) بھرپور حصہ لیا۔
زِرّ بن حبیش کہتے ہیں: میں سیدنا صفوان بن عسال مرادی ؓ کے پاس موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے گیا، انھوں نے کہا: کیوں آئے ہو؟ میں نے کہا: حصولِ علم کے لیے، انھوں نے کہا: تو پھر کیا میں تجھے خوشخبری نہ سناؤں، پھر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی: بیشک فرشتے طالب ِ علم کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں، اس چیز کی رضامندی کی خاطر جو وہ طلب کر رہا ہوتا ہے۔
عبد اللہ بن بریدہ سے مروی ہے کہ ایک صحابی، سیدنا فضالہ بن عبیدؓ کے پاس گیا، جبکہ وہ مصر میں تھے، جب وہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اونٹنی کو چارہ کھلا رہے تھے، آنے والے نے کہا: میں تمہیں ملنے کے لیے نہیں آیا، میں تو صرف ایک حدیث کے لیے آیا ہوں، جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے پہنچی ہے اور مجھے امید ہے کہ تم بھی اس کے بارے میں کچھ جانتے ہو گے، جب انھوں نے اس کو پراگندہ بالوں والا دیکھا تو پوچھا: کیا وجہ ہے کہ میں تم کو پراگندہ بالوں والا دیکھ رہا ہوں، حالانکہ تم اس شہر کے امیر ہو؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زیادہ خوشحالی اور آسودگی سے منع کرتے تھے، نیز انھوں نے ان کو اس حالت میں دیکھا کہ انھوں نے جوتا پہنا ہوا نہیں تھا، انھوں نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بعض اوقات جوتا اتار دینے کا حکم دیا۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی علم تلاش کرنے کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان اس کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: اَمَّا بَعْدُ! پس بیشک سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور سب سے بہتر سیرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہے اور بدترین امور وہ ہیں جو نئے نئے ہوں اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے گمراہی والا کوئی راستہ وضع کیااور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنیوالوں کے گناہ کے برابر گناہ ہو گا، جبکہ ان کے گناہوں میںکوئی کمی واقع نہ ہو گی، اسی طرح جس نے ہدایت والا کوئی راستہ جاری کیا اور پھر اس کی پیروی کی گئی تو اس پر پیروی کرنے والوں کے اجر کے برابر اجر ہو گا، جبکہ ان کے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔
غضیف بن حارث شمالی کہتے ہیں: عبد الملک بن مروان نے مجھے بلا بھیجا، جب میں گیا تو اس نے کہا: اے ابو اسماء! ہم نے لوگوں کو دو چیزوں پر جمع کر لیا ہے۔ میں نے کہا: وہ کون سی؟ اس نے کہا: جمعہ کے روز منبروں پر ہاتھ اٹھانا اور نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے بعد قصہ گوئی کرنا۔ میں نے کہا: میرے نزدیک یہ تمہاری بدعتوں کی دو بہترین مثالیں ہیں اور میں ان میں سے کوئی بھی نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: کیوں؟ میں نے کہا: کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو قوم بدعت کو ایجاد کرے گا، اس سے اس بدعت کے بقدر سنت اٹھا لی جائے گی، پس سنت کو تھام لینا بدعت کو ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔
سعد بن ابراہیم کہتے ہیں: ایک آدمی نے اپنے تین گھروں کے بارے میں وصیت کی کہ ہر گھر کا تیسرا حصہ ایک انسان کو ملے گا، میں نے اس کے بارے میں قاسم بن محمد سے سوال کیا، انھوں نے کہا:ایک مکان تین افراد کے لیے (اور باقی دو گھر وارثوں کیلئے) کر دو، پس بیشک میں نے سیدہ عائشہؓ سے سنا، انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایسا عمل کیا، جس پر ہمارا حکم نہ ہو تو اس کا وہ عمل مردود ہو گا۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے، جبکہ ہم جنبی ہوتے تھے، لیکن اس سے پانی جنبی نہیں ہو جاتا۔
سیدہ عائشہ ؓ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایسے برتن میں غسل کرتے تھے، جو ایک فَرَق کی مقدار کے برابر ہوتا تھا۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہتے تھی: میرے لیے باقی چھوڑو، میرے لیے بھی پانی رہنے دو۔
سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے غسل کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے پہلے چلّو بھرتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے چلّو بھرتی، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ سے پہلے شروع کرتے تھے۔
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک برتن سے جنابت والا غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں ان کا بوسہ بھی لے لیتے تھے۔
مولائے ام سلمہ ناعم کہتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ ؓ سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا عورت اپنے خاوند کے ساتھ غسل کر سکتی ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب وہ عقلمند ہو، میں نے اپنے آپ کو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک ٹب سے غسل کرتے تھے اور اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالتے، یہاں تک کہ ان کو صاف کر لیتے اور پھر اپنے جسموں پر پانی بہا دیتے تھے۔
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: نبیِ کریم اور آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں میں سے ایک خاتون ایک برتن سے غسل کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانچ مکوک سے غسل کرتے اور ایک مکوک سے وضو کرتے تھے۔