سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق کے لیے لڑتا رہے گا اور وہ قیامت تک دوسروں پر غالب رہیں گے، یہاں تک کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نزول ہو گا، تو اس گروہ کا امیر ان سے کہے گا: تشریف لائیں اور ہمیں نماز پڑھائیں، لیکن وہ جواباً کہیں گے:تم ہی ایک دوسرے پر امیر ہو (لہٰذا تم خود نماز پڑھاؤ)، یہ دراصل اللہ تعالیٰ اس امت کو عزت دے گا۔
سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہے گا اور ان کی مخالفت کرنے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت بپا ہو جائے گی اور وہ اسی طرز عمل پر ہوں گے۔
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ایک گروہ اپنے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا امر یعنی قیامت آجائے گی اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔
حسن کہتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا ایک بھائی فتنوں میں پیش پیش رہتا تھا، وہ اسے منع تو کرتے تھے لیکن وہ باز نہیں آتا تھا،سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک دن اس سے کہا: میں تو سمجھتا تھا کہ میری تھوڑی سی وعظ و نصیحت تیرے لیے کافی رہے گی، لیکن صورتحال یہ ہے کہ میں اس کے برعکس دیکھ رہا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: جب دومسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے بالمقابل نکل آئیں اور ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوں گے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: اللہ کے رسول ! قاتل تو جہنمی ہوا، مقتول کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے اپنے مقابلے میں آنے والے کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا۔
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو مسلمان جب ایک دوسرے پر ہتھیار اٹھاتے ہیں تو وہ دونوں جہنم کے کنارے پر ہوتے ہیں اور جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کر دیتا ہے تو وہ دونوں جہنم میں داخل ہو جاتے ہیں۔
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت سے پہلے ہَرْج ہوگا۔ صحابہ نے دریافت کیا: ھَرْج سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد قتل ِ عام ہے ۔ صحابہ نے دریافت کیا: جس قدر اب ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں‘ کیا اس سے بھی زیادہ قتل ہوگا، آجکل تو ہم ہرسال ستر ہزار سے زائد افراد کو قتل کر دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس قتل سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے، بلکہ تم مسلمانوں کا ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے۔ صحابہ نے پوچھا: جب یہ صورت ِ حال ہوگی تو ان دنوں ہماری عقلیں کہاں جائیں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دور کے لوگوں کی عقلیں ان سے چھین لی جائیں گی،اور ناسمجھ لوگ اقتدارِ حکومت پر غالب ہوں گے کہ ان کی اکثریت خود کو صحیح سمجھے گی، جبکہ وہ کسی دینی چیز پر نہیں ہوں گے۔ راوی حدیث عفان نے کہا: سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر مجھے اور تم لوگوں کو ایسی صورت ِ حال کا سامنا ہو تو میںاپنے اور تمہارے لیے نجات کی صرف ایک صورت سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جس طرح ہم خالی ہاتھ فتنے میں داخل ہوں اسی طرح کچھ لیے دیئے بغیر اس سے بے دخل ہوجائیں، نہ ہم کوئی خون بہائیں اور نہ مال لیں۔
سیدنا صنابحی احمسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تم سے پہلے حوضِ کوثر پر موجود ہوںگا اور میں تمہاری کثرت ِ تعداد کی بنا پر دوسری امتوں پر فخر کروں گا، لہذا تم میرے بعد آپس میں قتال نہ کرنا۔
۔ (دوسری سند) رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری کثرت کی بنا پر میں دوسری امتوں پر فخر کروں گا،لہذا اس طرح نہ ہونے پائے کہ تم میرے بعد کافر بن کر ایک دوسرے کی گردنیں مارنا شروع کر دو۔
سعید بن جبیر کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے ہاں تشریف لائے۔ہمیں توقع تھی کہ وہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث یا کوئی اچھی بات سنائیں گے۔ ہم میں سے حکم نامی ایک آدمی نے جلدی کی اور کہا: اے ابو عبدالرحمن! فتنہ کے دنوں میں قتال کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ انہوں نے کہا: تجھے تیری ماں گم پائے‘ کیا تم جانتے ہو کہ فتنہ کیا چیز ہے؟ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشرکوں سے قتال کیا کرتے تھے، اس وقت مشرکین کی جماعت یا ان کے دین میں داخل ہونا فتنہ تھا،وہ قتال تمہاری اس لڑائی کی طرح نہیں تھا، جو حصولِ اقتدار کے لیے لڑی جاتی ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مٹی دم کی جڑ کے آخری حصے کے علاوہ انسان کے پورے جسم کو کھا جاتی ہے۔ کسی نے کہا: اس کی مقدار کیا ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رائی کے دانے کے برابر، تم اسی سے دوبارہ اگو گے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر فخر نہیں ہے، قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر سے زمین پھٹے گی اورمجھے اس پر بھی فخر نہیں ہے اور قیامت کے دن میں ہی سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں گا اور میں اس پر بھی فخر نہیں کرتا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو آسمان ان پر ہلکی ہلکی بارش برسا رہا ہوگا۔
سیدنا ابورزین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میںنے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ مردوں کو کیسے زندہ کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم کبھی ایسی بے آباد وادی سے گزرے ہو کہ وہاں سے جب دوبارہ گزرے ہو تو وہ سر سبز ہوچکی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اسی طرح مردوں کو زندہ کرے گا۔
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تین طرح سے اٹھایا جائے گا، بعض لوگ سوار ہوں گے، بعض پیدل چلنے والے ہوں گے اور بعض چہروں کے بل چلتے ہوں گے، تم قیامت کے دن ستر کے عدد کو پورا کرو گے، جبکہ تم آخری امت ہو اور تم اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ معزز ہو، تمہارے چہروں پرمہریں لگی ہوں گی، سب سے پہلے تمہاری رانیں بولیں گی۔ ابن ابی بکیر نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارضِ شام کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تمہیں وہاں اکٹھا کیا جائے گا۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہ کرام نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو چہروں کے بل کیسے چلایا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے انہیں پاؤں کے بل چلنے کی طاقت دی ہے، وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قیامت کے دن لوگوں کو اٹھایا جائے گا تو میں اور میری امت ایک بلند ٹیلے پر ہوں گے، میرا ربّ مجھے سبز رنگ کا لباس پہنائے گا، پھرمجھے اجازت دی جائے گی اور جیسے اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا، میں اس کی تعریف کروں گا، یہی مقامِ محمودہوگا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کو ناپسندیدہ امور کے ساتھ اور جہنم کو لذت والے امور کے ساتھ گھیرا گیا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے جنت اور جہنم کو پیدا کیا تو جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا اور اس سے کہا: جنت کو اور اس میں اہل جنت کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھو، انھوں نے جنت میں آکر اسے دیکھا اور وہاں اللہ تعالیٰ نے اہل ِ جنت کے لیے جو کچھ تیار کیا ہے، اسے بھی دیکھا اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس آکر کہا: تیری عزت کی قسم! اس کے بارے میں تو جو بھی سنے گا، وہ اس میں داخل ہو گا۔ اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جنت کے ارد گرد ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، اور ان کو دوبارہ حکم دیا کہ اب جا کر جنت کو دیکھواور ان چیزوں کو دیکھو جو میں نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں، جبرائیل علیہ السلام جنت کی طرف گئے اور اس کے ارد گرد انسانوں کے ناپسندیدہ کاموں کی باڑ لگی ہوئی تھی اور اللہ تعالیٰ کی طرف واپس جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو اندیشہ ہے کہ ایک آدمی بھی جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو حکم دیا کہ جاؤ اور جہنم اور اس میں اہل جہنم کے لیے تیار کردہ چیزوں کو دیکھ کر آؤ، انہوں نے جا کر دیکھا کہ جہنم کے بعض حصے بعض حصوں پر چڑھ رہے ہیں، وہ واپس چلے گئے اور جا کر کہا: تیری عزت کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ جو کوئی بھی ا س جہنم کے بارے میں سنے گا، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا، اُدھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور جہنم کے ارد گرد شہوات یعنی انسانوں کے پسندیدہ کاموں کی باڑ لگا دی گئی، جبرائیل علیہ السلام نے ان کو دیکھ کر کہا: تیری عزت کی قسم! مجھے تو لگتا ہے کہ کوئی آدمی بھی اس سے بچ نہیں سکے گا۔
Haidth Number: 13195
Tip: Tap to favorite,
enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.