سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب سخت گرمی ہو جائے تو نمازِ ظہر کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، کیونکہ سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔ مزید فرمایا: آگ نے اپنے ربّ سے شکوہ کیا، پس اس نے اس کو ہر سال دو سانسوں کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔
سیدنا ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز کو ٹھنڈا کر کے ادا کیا کرو، پس بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے۔
ابو الحسن مہاجرکہتے ہیں: ہم ایک جنازہ سے واپس آتے ہوئے زید بن وہب کے پاس سے گزرے، انھوں نے سیدنا ابو ذرؓ سے بیان کیا، انھوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، مؤذن نے نمازِ ظہر کے لیے اذان دینا چاہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ٹھنڈا کر۔ تین بار فرمایا، یہاں تک کہ ہمیں ٹیلوں کے سائے نظر آنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک سخت گرمی جہنم کی بھاپ میں سے ہے، اس لیے جب سخت گرمی پڑنے لگے تو نماز کو ٹھنڈا کیا کرو۔
ابو صعصعہ،جو کہ سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے، کہتے ہیں: سیّدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا:میرے پیارے بیٹے! جب تو اذان کہے تو بلند آواز سے اذان کہا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ہر چیز جو اس کو سنتی ہے وہ اس کے لیے گواہی دیتی ہے، وہ جن ہو یا انسان ہو یا پتھر ہو۔ اور ایک مرتبہ کہا: میرے بیٹے! جب تو خشکی (یعنی بے آباد علاقوں) میں ہو تو اذان کے لیے اپنی آواز کو اونچا کیا کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : کوئی جن، کوئی انسان، کوئی پتھر اور کوئی چیز اس کو نہیں سنتی مگر وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔
اور انہی ابو صعصعہ سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ سیّدنا ابو سعید نے کہا: جب تو اپنی بکریوںیا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان کہے تو اذان میں اپنی آواز کو بلند کیا کر، کیونکہ مؤذن کی آواز کی انتہا تک جو بھی جن، انسان اور کوئی چیز سنتی ہے، وہ قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی۔ میں نے یہ الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے تھے۔
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا اتنی دور بھاگ جاتا ہے کہ اذان نہیں سنتا ، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، پھر جب نماز کے لیے اقامت کہی جاتی ہے تو بھاگ جاتا ہے، جب اقامت مکمل ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے اور انسان اور اس کے نفس کے درمیان حائل ہو کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے ۔وہ (نمازی کو) کہتا ہے: تو فلاں کام یاد کر ، فلاں کام یاد کر، وہ کام جو اسے پہلے یاد نہیں ہوتے(وہ یاد کراتا ہے)، نتیجتاً آدمی ایسی حالت میں ہو جاتا ہے کہ اسے پتہ نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ہے۔
اور انہی سے ایک دوسری سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شیطان مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنتا ہے تو گوز مارتا ہوا اتنا دور چلا جاتا ہے کہ آواز نہ سن سکے، جب مؤذن فارغ ہو جاتا ہے تو وہ واپس آ کر وسوسہ ڈالنا شروع کر دیتا ہے۔ پھر جب مؤذن اقامت کہنا شروع کرتا ہے تو شیطان اسی طرح کرتا ہے، (یعنی بھاگ جاتا ہے)۔
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب مؤذن اذان کہتا ہے تو شیطان بھاگ جاتا ہے، یہاں تک کہ روحاء مقام تک پہنچ جاتا ہے، اور یہ مقام مدینہ سے تیس میل کے فاصلہ پر ہے۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے بلایا جاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہو جاتی ہے۔
سیّدناحذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد کے قریبی کی دور والے گھر پر ایسے ہی فضیلت ہے جیسے غزوہ کرنے والے کی بیٹھ رہنے والے پر فضیلت ہے۔
سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگ میخوں کی طرح مسجدوں میں بیٹھے رہتے ہیں، ان کے ہم مجلس فرشتے ہوتے ہیں، اگر وہ غائب ہو جائیں تو فرشتے انہیں تلاش کرتے ہیں، اگر وہ بیمار ہوں تو وہ ان کی بیمار پرسی کرتے ہیں اگر وہ کسی کام میں مصروف ہوں تو وہ ان کی اعانت کرتے ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں بیٹھنے والا تین خصلتوں پر ہوتا ہے: ایسا بھائی جس سے فائدہ حاصل ہو، یا کوئی محکم بات یا ایسی رحمت جس کا انتظار ہو۔
سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مسلمان آدمی نماز اور ذکر کے لیے مساجد کو اپنا ٹھکانہ نہیں بناتا مگر جب وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایسے خوش ہوتے ہیں کہ غائب آدمی کے گھر والے اس کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان فرمایا : جو شخص مسجد کی طرف آتا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے میزبانی (کا سامان) تیار کرتے ہیں، جب بھی وہ آتا جاتا ہے۔
سیّدناابوسعیدخدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جو مسجد میں آنے جا نے کا عادی ہے تو اس پر ایمان کے شاہدبن جا ئو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اللہ کی مسا جد کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آ خرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔
عبداللہ بن عامر ألھانی کہتے ہیں: سیّدنا حابس بن سعید طائی رضی اللہ عنہ ، جنھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا، سحری کے وقت مسجد میں داخل ہوئے اور دیکھا کہ لوگ مسجد کے اگلے حصہ میں نماز پڑھ رہے ہیں،یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے: رب کعبہ کی قسم! یہ لوگ ریاکار ہیں، انہیں ڈراؤ، جس نے انہیں ڈرایا، اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی۔ یہ سن کر لوگ ان کے پاس گئے اور انہیں باہر نکال دیا، پھر سیّدنا حابس رضی اللہ عنہ نے کہا: سحری کے وقت مسجد کے اگلے حصہ میں فرشتے نماز پڑھتے ہیں۔
سیّدنامعاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنی عورات(یعنی ستروالے مقامات) میں سے کسے دیکھ سکتے ہیں اور کسے نہیں دیکھ سکتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بیوی اور لونڈی کے علاوہ (باقی سب لوگوں سے) اپنے عورہ کی حفاظت کر۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوںتو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھ میں یہ استطاعت ہے کہ کوئی بھی (تیرے عورہ) کو نہ دیکھنے پائے تو وہ ہرگز نہ دیکھے۔ معاویہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: جب کوئی آدمی اکیلا ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا: اللہ اس بات کا زیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے حیا کیا جائے۔۔ ایک روایت کے مطابق (بات سمجھانے کے لیے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا کر اپنی شرمگاہ پر رکھا۔
سیّدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرد ، مرد کے ستر کی طرف اور عورت، عورت کی شرمگاہ کی طرف نہ دیکھے اور مرد ایک ہی کپڑے میں دوسرے مرد کے ساتھ نہ لیٹے اور نہ ہی کوئی عورت ایک ہی کپڑے میں دوسری عورت کی طرف پہنچے۔
سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ بن عمران علیہ السلام جب پانی میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا نہ اتارتے حتی کہ اپنی شرمگاہ پانی میں چھپا لیتے۔
سیّدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے ایک چچے نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا؛ اے اللہ کے رسول! میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، گھر میں کھجور کی بنی ہوئی چٹائیوںمیںسے ایک چٹائیپڑی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی ایک طرف کے بارے میں حکم فرمایا تو اسے صاف کر کے اس پر پانی چھڑکا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات ہمارے گھر میں تشریف لاتے تھے، اگر نماز کا وقت ہوجاتا تو آپ اس چٹائی کے بارے میں حکم دیتے جو آپ کے نیچے ہوتی تھی، پس اسے صاف کرکے اس پر پانی چھڑک دیا جاتا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر کھڑے ہوتے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہوجاتے اور آپ ہمیں نماز پڑھاتے۔ ان کییہ چٹائی کجھور کے پتوں سے بنی ہوتی تھی۔
زوجۂ رسول سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او ڑھنی پر نماز پڑھ رہے ہوتے تھے، جبکہ میں حیض کی حالت میں آپ کے پہلو میں ہوتی تھی، جب آپ سجدہ کرتے تو آپ کا کپڑا مجھے لگتا رہتا تھا۔
سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زوجۂ رسول سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے، جس میں آپ کے ساتھ سوتے تھے؟ انہوںنے جواب دیا: ہاں، لیکن جب تک اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے تھے۔
Haidth Number: 1445
Tip: Tap to favorite,
enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.