سیدنا ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب میری امت میں دجال اور جھوٹ لوگ پیدا ہوں گے، وہ تم کو ایسی نئی نئی احادیث بیان کریں گے، جو نہ تم نے سنی ہوں گی اور نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس تم ان سے بچ کر رہنا، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو فتنے میں ڈال دیں۔
سیدنا سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ سے کوئی حدیث بیان کی، جبکہ اس کا خیال یہ ہو کہ وہ جھوٹ ہے، تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے احادیث بیان کرنے سے بچو، مگر وہ جن کا تم کو علم ہو، پس بیشک جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
سیدنا ابو قتادہ ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس منبر پر بیان کرتے ہوئے سنا: لوگو!مجھ سے کثرت سے احادیث بیان کرنے سے بچو، جو آدمی میرے حوالے سے کوئی بات کرے تو وہ صرف حق اور سچ کہے، پس جس نے میری طرف وہ بات منسوب کر دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ سے بیان کرو اور مجھ پر جھوٹ نہ بولو، جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا، اور بنی اسرائیل سے بھی بیان کر لیا کرو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
یحییٰ بن میمون حضرمی کہتے ہیں: سیدنا ابو موسی غافقی ؓ نے سیدنا عقبہ بن عامر جہنی ؓ کو منبر پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہوئے سنا، پھر ابو موسی نے کہا: یہ تمہارا ساتھی (واقعی احادیث کو) یاد کرنے والا ہے یا پھر ہلاک ہونے والا ہے، بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں آخری نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا: تم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو لازم پکڑنا اور عنقریب تم ایسی قوم کی طرف لوٹو گے، جو مجھ سے احادیث بیان کرنے کی مشتاق ہو گی، پس جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہ کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ میں تیار کر لے، اور جس نے میری بعض احادیث یاد کر رکھی ہوں، وہ ان کو بیان کرے۔
محمد بن کعب کہتے ہیں: سیدنا ابو قتادہ ؓہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہم احادیث بیان کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، انھوں نے یہ دیکھ کر کہا: قبیح ہو جائیں یہ چہرے، کیا تم اپنی کہی ہوئی اِن باتوں کو جانتے بھی ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے مجھ پر ایسی بات کہہ دی، جو میں نے نہیں کہی، تو وہ اپنا ٹھکانہ آگ سے تیار کر لے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جو شخص مجھ پرجھوٹ بولتا ہے، اس کے لیے آگ میں ایک گھر تیار کیا جاتا ہے۔
عبد اللہ بن سلمہ کہتے ہیں: میں اور دو آدمی، ہم سب سیدنا علیؓ کے پاس گئے، ایک آدمی میرے قوم سے تھا اور میرے خیال کے مطابق دوسرا بنو اسد سے تھا، سیدنا علی ؓ نے ان کو ایک طرف بھیج دیااور ان سے کہا: تم دونوں قوی آدمی ہو، اس لیے میں تم کو جس کام کی طرف بھیج رہا ہوں، اس میں اچھی طرح محنت کرنا، پھر وہ قضائے حاجت کے لیے ایک جگہ میں گئے، قضائے حاجت کی، پھر وہاں سے نکلے اور پانی کا ایک چلّو لیا اور اس سے ہاتھ دھوئے اور پھر قرآن مجید کی تلاوت شروع کر دی۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ہم لوگ ان کی اس کاروائی کو صحیح نہیں سمجھ رہے تو انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی قضائے حاجت کر کے قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے اورہمارے ساتھ گوشت کھاتے تھے اور جنابت کے علاوہ کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے قرآن مجید سے مانع نہیں ہوتی تھی۔
ابو غریف کہتے ہیں: سیدنا علی ؓ کے پاس وضو کا پانی لایا گیا، انھوں نے تین تین بار کلی اور ناک میں پانی چڑھایا، تین دفعہ چہرہ دھویا، تین مرتبہ ہاتھوں اور بازوؤں کو دھویا، پھر اپنے سرکا مسح کیا اور پھر پاؤں کو دھویا۔ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید کی کچھ تلاوت کرنے کے بعد فرمایا: وہ بندہ یہ تلاوت کر سکتا ہے، جو جنبی نہ ہو، رہا مسئلہ جنابت والے آدمی کا تو وہ تلاوت نہیں کر سکتا ہے، ایک آیت بھی نہیں پڑھ سکتا۔
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طلوع آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور اس وقت اس کو کافر لوگ اس کو سجدہ کرتے ہیں، اور نہ غروب ِ آفتاب کے وقت نماز پڑھا کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور کافر لوگ اس وقت اس کو سجدہ کرتے ہیں اور نہ نصف النہار یعنی زوال کے وقت نماز پڑھا کرو، کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سورج کے طلوع اور غروب ہوتے وقت نماز کا قصد نہ کرو، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پس جب سورج کا کنارہ طلوع ہو جائے تو اس کے بلند ہو جانے تک نماز نہ پڑھو، اسی طرح جب سورج کا کنارہ غروب ہونے لگے تو اس کے غائب ہو جانے تک نماز نہ پڑھو۔
سیدہ سمرہ بن جندب ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طلوع آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھو، کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے اور شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے۔
سیدنا زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وقت نماز پڑھنے سے منع کیا، جب سورج کا کنارہ طلوع ہو رہا ہو یا اس کا کنارہ غروب ہو رہا ہو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
سیدنا بلال بن رباح ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کسی وقت نماز پڑھنے سے منع نہیں کیا جاتا تھا، ماسوائے طلوع آفتاب کے وقت کے، کیونکہ یہ شیطان کے سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طلوع آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع کیا، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے اور اسی طرح (اس وقت بھی نماز پڑھنے سے منع فرمایا) جب وہ غروب کے لیے جھک جائے، یہاں تک کہ غروب ہو جائے۔
سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب امام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الْضَّالِّیْنَ} کہے تو تم آمین کہو، کیونکہ فرشتے بھی آمین کہتے ہیں اور امام بھی آمین کہتا ہے تو جس کا آمین کہنا فرشتوں کے آمین کہنے کے موافق ہوگیا اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب قراء ت کرنے والا(امام) آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافقت کر گئی تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جائیں گے۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آمین کہتا ہے تو فرشتے آسمان میں آمین کہتے ہیں۔ اگر اس کی آمین ان کی آمین سے موافقت کر جائے تو اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس (آمین) کے ساتھ اپنی آواز کو لمبا کرتے تھے۔
اور سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّالِّیْنَ} پڑھا تو آمین کہا اور اس کے ساتھ اپنی آواز کو آہستہ کیا اور اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا اور دائیں بائیں سلام پھیرا۔
سیّدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ گزرے تو کیا ہم اس کے لیے کھڑا ہواکریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس کے لیے کھڑا ہوا کرو، پس بیشک تم اس کے لیے نہیں، بلکہ روحوں کو قبض کرنے والی ذات کی تعظیم میں کھڑے ہوتے ہو۔
سیّدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جنازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے کھڑے رہے، یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ ابوزبیر نے مجھے یہ بھی بیان کہ سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ ایک یہودی کے جنازہ کے لیے کھڑے رہے، یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
سیّدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہمارے پاس سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہم کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو یہودی کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک موت ایک گھبراہٹ ہے، اس لیے جب تم کوئی جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔
(دوسری سند) سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہمارے قریب سے ایک جنازہ گزرا، اسے دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی اس کو اٹھانے کے لیے چل پڑے، لیکن اچانک پتہ چلا کہ وہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ تھا، جب ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوبتایا کہ یہ تو ایک یہودی عورت کا جنازہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک موت کی گھبراہٹ ہوتی ہے، اس لیے تم جنازہ دیکھ کر کھڑے ہو جایا کرو۔
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو جائو، بے شک موت کی ایک پریشانی ہوتی ہے۔
(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہو گئے،کسی نے کہا:اے اللہ کے رسول! یہ تو ایک یہودی کا جنازہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک موت کی ایک گھبراہٹ ہوتی ہے۔
Haidth Number: 3228
Tip: Tap to favorite,
enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.