سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسلِ جنابت کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ بائیں کندھے پر کچھ جگہ خشک رہ گئی ہے، اس تک پانی نہیں پہنچا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو پکڑا اور اس جگہ کو تر کر دیا، پھر نماز کے لیے روانہ ہو گئے۔
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ عصر ادا کی، پھر میرے گھر تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا کیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسی نماز پڑھی، جو آپ نہیں پڑھتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ مال آ گیا تھا، بس اس نے مشغول کیے رکھا، ایک روایت میں ہے: میرے پاس بنو تمیم کا وفد آیا تھا، اس نے مجھے ان دو رکعتوں سے روک دیا، جو میں ظہر کے بعد پڑھا کرتا تھا، پس میں نے ان کو اب ادا کیا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر یہ دو رکعتیں ہم سے رہ جائیں تو ہم ان کی قضائی دیا کریں؟ آپ نے فرمایا: جی نہیں۔
سیدناجبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بدر والے (قیدی) مشرکوں کے سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، اس وقت وہ مسلمان نہیں تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے توآپ نمازِ مغرب پڑھا رہے تھے اور اس میں سورۂ طور کی تلاوت کر رہے تھے، یہ قرآن سن کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ میرا دل پھٹنے لگا ہے۔
سیدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مروان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں تجھے نماز مغرب میں چھوٹی چھوٹی سورتوں کی تلاوت کرتے ہوئے ہی سنتا ہوں، میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس نماز میں دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت پڑھتے تھے۔ ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں: میں نے عروہ سے کہا: دو لمبی سورتوں میں سے ایک لمبی سورت سے کیا مراد ہے؟ انہوںنے کہا: وہ سورۂ اعراف ہے۔
سیدنا ابو ایوبیا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مغرب کی دو رکعتوں میں سورۂ اعراف کی تلاوت کی۔
سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام فضل بنت حار ث رضی اللہ عنہا نے مجھے سورۂ مرسلات کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر کہا: اے میرے پیارے بیٹے! تو نے یہ سورت پڑھ کر مجھے(یہ بات) یاد کرادی ہے کہ یہ آخری سورت ہے، جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مغرب کی نماز میںپڑھتے ہوئے سنا تھا۔
سیدہ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر میں ایک کپڑے میں لپٹ کر ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور سورۂ مرسلات کی تلاوت کی، اس کے بعد کوئی نماز نہ پڑھی، حتی کہ فوت ہو گئے۔
حنظلہ سدوسی کہتے ہیں: میں نے عکرمہ سے کہا کہ میںمغرب کی نماز میں سورۂ فلق اور سورۂ ناس کی تلاوت کرتا ہوں، لیکن لوگ مجھ پر اس کا عیب لگاتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس میں تو کوئی حرج نہیں ہے، تو ان کو پڑھ سکتا ہے، کیونکہیہ قرآن سے ہیں۔مجھے تو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بھی بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں صرف سورۂ فاتحہ کی تلاوت کی۔
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدم کے ساتھ چمٹ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے سورۂ ہود اور سورۂ یوسف پڑھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے عتبہ بن عامر!کوئی ایسی سورت نہیں پڑھی گئی جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند اور سب سے زیادہ بلیغ ہو، ما سوائے سورۂ فلق کے۔ (یہ حدیث سننے کے بعد) ابو عمران اس سورت کو نہیں چھوڑتے تھے اور ہمیشہ نماز مغرب میں پڑھتے تھے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہر مسلمان ، وہ آزاد ہو یا غلام اور مرد ہو یا عورت، پر ایک صاع کھجور یا جو کی صورت میں رمضان کا صدقۂ فطر فرض کیا ہے۔
۔ ابو عمار کہتے ہیں: میں نے سیدنا قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے صدقۂ فطر کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں زکوٰۃ کی فرضیت سے پہلے تو صدقۂ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا تھا، البتہ جب زکوٰۃ (کی فرضیت) نازل ہو گئی تو اس کے بعد نہ اس صدقہ سے ہمیں روکا گیا اور نہ از سرِ نو اس کا حکم دیا گیا، البتہ ہم ادا کرتے آ رہے ہیں۔ پھر میں نے ان سے یومِ عاشوراء کے روزے کے بارے میں سوال کیا،انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت سے پہلے اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا، اس کے بعد جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہو گئے تو نہ ہمیں از سرِ نو اس روزے کا حکم دیا گیا اور نہ اس سے منع کیا گیا، البتہ ہم اس کا روزہ رکھتے ہیں۔
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں جو، کھجور، منقی اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر ادا کیا کرتے تھے، لیکن جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ (اپنے دور میں حج یا عمرہ ادا کرنے کے لیے) تشریف لائے تو اس وقت شامی گندم بھی آ گئی تھی، انہوں نے یہ خیال ظاہر کیاکہ گندم کا ایک مُدّ دیگر اجناس کے دو مُد کے برابر ہے۔
۔ (دوسری سند)سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موجود تھے تو ہم کھانے، کھجور، جو، منقیٰ اور پنیر کا ایک ایک صاع بطور صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے پاس سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مذکرو مونث اور آزاد و غلام پر کھجور یا جو کا ایک ایک صاع بطور صدقۂ فطر فرض کیا ہے، بعد میں لوگوں نے گندم کے نصف صاع کو ان اجناس کے ایک صاع کے مساوی قرار دیا تھا۔ امام نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ صدقۂ فطر کے سلسلہ میں کھجور ہی ادا کیا کرتے تھے، لیکن ایک سال کھجور کی قلت ہو گئی تھی، اس لیے انھوں نے جو عطا کیے تھے۔
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شب ِ قدر، ماہِ رمضان کی آخری دس راتوں میں ہے، جو آدمی اجرو ثواب کی خاطر ان دس راتوں میں قیام کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ معاف کر دے گا، یہ رات طاق راتوں یعنی اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویںیا انتیسوں کو ہو گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: شب ِ قدر کی علامت یہ ہے کہ یہ رات صاف اور روشن ہوتی ہے، گویا اس میں چاند چمک رہا ہے، انتہائی پرسکون ہوتی ہے، اس رات میں سردی ہوتی ہے نہ گرمی، اس رات کو صبح تک کسی تارے کو نہیں پھینکا جاتا اور جب صبح کو سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کی شعاع نہیں ہوتی، وہ چودھویں کے چاند کی مانند ہوتا ہے اوراس روز اس کے طلوع ہوتے وقت شیطان اس کے سامنے نہیں آتا۔
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں شب ِ قدر کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ رات ماہِ رمضان میں ہوتی ہے، پس تم اس کو آخری عشرہ میں تلاش کرو اور اس عشرے کی بھی طاق راتوں میں،یعنی اکیسویںیا تئیسویںیا پچیسویںیا ستائیسویںیا رمضان کی آخری رات میں، جس نے اجرو ثواب کے حصول کے لیے اس رات قیام کیا، اس کی اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیںگے۔
۔ سیدناابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس رات کو آخری عشرہ میں تلاش کرو، یعنی جب ماہِ رمضان کے نو دن یا سات دن یا پانچ دن یا تین دن باقی ہوں یا پھر اس ماہ کی آخری رات کو۔
۔ مولائے اسماء عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا لوگوں کے ٹھہرنے والی جگہ کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں، وہ یہ پوچھتی تھیں: چھوٹے بیٹے! کیا چاند غروب ہوگیا ہے؟ یہ مزدلفہ کی رات کا واقعہ تھا اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا: جی نہیں، پھر انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی اور پوچھا: بیٹا ! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ اس وقت چاند غروب ہوچکا تھا،میں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر انھوں نے کہا: چلو چلیں، چنانچہ ہم چل پڑے اور جا کر جمرۂ عقبہ کی رمی کی، اس کے بعد انہوں نے واپس آکر اپنی منزل پر نمازِ فجر ادا کی، میں نے عرض کیا ! محترمہ ہم نے تو بہت زیادہ جلدی کی ہے، وہ بولیں: بیٹے! بالکل نہیں، اللہ کے نبی نے کمزور خواتین کو اس کی اجازت دی ہے۔
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنی ہاشم کے کمزور لوگوں کو حکم دیاکہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے جلدی روانہ ہوجائیں۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاندان کے جن کمزور لوگوں کو مزدلفہ کی رات کو ہی وہاں سے پہلے بھیج دیا تھا، میں بھی ان میں تھا، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خاندان کے ضعیف لوگوں کو پہلے بھیج دیا تھا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدلفہ کی رات کو مجھے بھی کمزور اور بھاری بھر کم لوگوں کے ساتھ (منی کے لیے) بھیج دیا تھا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بھاری جسم والی خاتون تھیں، اس لیے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ مزدلفہ میں فجر کے بعد والے وقوف سے قبل ہی منیٰ کو روانہ ہوجائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جانے کی اجازت دے دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں یہ پسند کر رہی ہوں کہ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کر لیتی تو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بھی اجازت دے دیتے۔ قاسم مزدلفہ کے وقوف سے قبل منیٰ کی طرف جانے کواچھا نہیں سمجھتے تھے۔
۔ (دوسری سند )سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو مزدلفہ سے نمازِ فجر سے پہلے روانہ ہو جانے کی اجازت دی تھی، کیونکہ وہ بھاری جسم والی تھیں۔
۔ ابن شوال کہتے ہیں کہ وہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو رات کو ہی مزدلفہ سے منیٰ کو روانہ کردیا تھا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کمزور لوگوں کو اجازت دی تھی کہ وہ رات کو ہی مزدلفہ سے چلے جائیں۔
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دونوں کانوں میں اذان دی۔
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں ان کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوغہ پہن رکھا تھا اور اپنے ایک اونٹ کو گندھک مل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تیرے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجوریں لی، ان کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا، پھربچے کو اس طرح گڑتی دی کہ بچے نے منہ کھولااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے منہ سے وہ مواد نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دیا اور بچہ اس کو کھا کر اس کا ذائقہ لینے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار نے انکار کر دیا ہے، ما سوائے کھجور کی محبت کے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں زبیر کے بیٹے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھجور کی گڑتی دی اور فرمایا: یہ عبد اللہ ہے اور تم ام عبد اللہ ہو۔
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک بچہ پیدا ہوا، جب میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو کھجور کی گڑتی دی۔
Haidth Number: 4742
Tip: Tap to favorite,
enable Selection Mode to multi-copy or multi-favorite.